لکھنؤ/یواین آئی// اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ کے علی گنج علاقے میں آج ایک تین منزلہ عمارت میں لگنے والی شدید آگ کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ 20 سے زائد افراد جھلس کر زخمی ہو گئے ۔میڈیا رپورٹس میں اس حادثے میں 15 افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی ہے ۔ مہلوکین میں زیادہ تر طلبہ شامل ہیں جن کی عمریں 20 سے 24 سال کے درمیان بتائی جا رہی ہیں۔ حادثے میں جھلسنے والے 10 افراد کو علاج کیلئے ٹراما سنٹر منتقل کیا گیا ہے ۔ آگ دوپہر تقریباً دو بجے لگی۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنا علی گڑھ کا دورہ منسوخ کر دیا اور لکھنؤ واپس روانہ ہو گئے ۔ذرائع کے مطابق آگ عمارت کی دوسری منزل پر واقع ایک کوچنگ انسٹی ٹیوٹ اور ایک دوسرے مرکز میں لگی۔ آگ بھڑکنے پر کئی طلبہ جان بچانے باتھ روم میں بند ہو گئے تھے ۔ ایک طالب علم نے اپنی جان بچانے پہلی منزل سے چھلانگ لگا دی، تاہم وہ نیچے موجود گرِل پر جا گرا اور شدید زخمی ہو گیا ۔موقع پر فائر بریگیڈ کی تقریباً 10 گاڑیاں آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔ آگ پر قابو پانے ہائیڈرولک پلیٹ فارم کا استعمال کیا جا رہا ہے ۔ اس کے علاوہ ایس ڈی آر ایف اور این ڈی آر ایف کی ٹیمیں بھی جائے حادثہ پر پہنچ چکی ہیں۔آگ بجھانے والے عملے نے عمارت کی پچھلی دیوار توڑ دی ہے ، جس کے ذریعے لاشوں کو باہر نکالا جا رہا ہے ۔ایک پولیس افسر نے بتایا کہ تقریباً 10 افراد ابھی بھی عمارت کے اندر پھنسے ہوئے ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر برجیش پاٹھک اور پرنسپل سیکریٹری (داخلہ) سنجے پرساد موقع پر پہونچ کر حالات کا جائزہ لیا ۔ تقریباً 14 ایمبولینس گاڑیاں طلب کی گئی تھیں ۔یہ آگ علی گنج کی اس عمارت میں لگی جس کے بیسمنٹ، گراؤنڈ فلور اور پہلی منزل پر ایک پالتو جانوروں کی دکان (پیٹ شاپ) اور ایک کلینک موجود ہے ۔ دوسری منزل پر ‘لرننگ اسپیس’ نامی لائبریری (کوچنگ کیلئے ) اور ‘ہیڈ ہوپر اسٹوڈیو’ واقع ہیں، جو تھری ڈی آرٹ پروڈکشن اور گیم اسیٹس آؤٹ سورسنگ کے شعبے میں کام کرتا ہے ۔وزیر اعظم نریندر مودی نے اس حادثہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور انہوں نے مہلوکین کے لواحقین کو فی کس دو لاکھ روپئے ایکس گریشیاء کا اعلان کیا ہے ۔ اس کے علاوہ انہوں نے زخمیوں کیلئے بھی فی کس پچاس ہزار روپئے امداد کا اعلان کیا ہے ۔ اس کے علاوہ چیف منسٹر آدتیہ ناتھ نے بھی مہلوکین کیلئے ریاستی حکومت کی جانب سے فی کس پانچ لاکھ روپئے ایکس گریشیاء کا اعلان کیا ہے ۔ انہوں نے عہدیداروں کو زخمیوں کے موثر علاج کیلئے بھی ہدایات جاری کیں۔ ٹراما سنٹر کے جی ایم یو کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر انیل اگروال نے بتایا کہ اس حادثہ کے بعد تقریبا 21 تا 22 بچوں کو یہاں لایا گیا ہے جن کا علاج جاری ہے ۔










