کشمیر کی تین سیٹوں پر دو نیشنل کانفرنس اور ایک پر جیل میں نظر بند انجینئر رشید نے کامیابی کا جھنڈا گارڈ دیا
سرینگر // سخت ترین حفاظتی انتظامات کے بیچ جموں کشمیر میں لوک سبھا انتخابات کی پانچ نشستوں کیلئے ووٹوں کی گنتی ہوئی جس دوران وادی کشمیر کی تین سیٹوں پر نیشنل کانفرنس نے دو اور ایک پر تہاڑ جیل میں نظر بند انجینئر رشید نے بھاری اکثریت سے جیت درج کر لی ہے ۔ ادھر جیت درج کرنے کے ساتھ ہی نیشنل کانفرنس کے کارکنوں اور وکران نے جشن منایا جبکہ انجینئر رشید کے آبائی علاقے میں بھی خوشی دیکھنے کو ملی ۔ سی این آئی کے مطابق وادی کشمیر کی تین لوک سبھا سیٹوں کے نتائج منظر عام پر آئیں اور تین میں سے دو سیٹوں پر نیشنل کانفرنس اور ایک پر انجینئر رشید نے جیت کر لی ۔ سخت ترین سیکورٹی انتظامات کے بیچ منگل کی صبح 8بجے سے ہی گنتی مراکز پر ووٹ شماری کا عمل شروع ہو اور دن بھر یہ عمل جاری ہے ۔ صبح سے ہی شمالی ضلع بارہمولہ کی نشست پر تہاڑ جیل میں نظر بند انجینئر رشید جو کہ عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ ہے نے بھاری اکثریت سے جیت درج کر لی ہے اور انہوں نے اپنے مد مقابل نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ کو شکست دی جبکہ تیسرے نمبر پر وہاں پیپلز کانفرنس کے سجاد غنی لون رہے ۔ اسی طرح سے سرینگر پارلیمانی حلقہ کیلئے نیشنل کانفرنس کے امید وار آغا روح اللہ مہدی نے بھاری اکثریت سے جیت اپنے نام کی اور انہوں نے اپنے مد مقابل پی ڈی پی لیڈر وحید الرحمان پرہ کو شکست دی اور اس سیٹ پر تیسرے نمبر پر جموں کشمیر اپنی پارٹی کے محمد اشرف میر رہے ۔ اسی طرح سے اننت ناگ راجوری پارلیمانی حلقہ کیلئے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کو ہار کا سامنا کرنا پڑا اور اس نشست پر بھی نیشنل کانفرنس نے اپنی بادشاہت قائم کرتے ہوئے وہاں سے میاں الطاف نے ایک بڑی جیت درج کر لی ۔ اس پارلیمانی نشست میں محبوبہ مفتی دوسرے نمبر پر رہی اور اپنی پارٹی کے ظفر منہاس تیسرے مقام پر رہے ۔ ادھر نیشنل کانفرنس کی جیت کے ساتھ ہی پارٹی خیمے میں خوشی دیکھنے کو ملی اور نیشنل کانفرنس کے کارکنان و وکران نے وادی کشمیر کے مختلف مقامات پر جشن منایا اور خوشی کا اظہار کیا ہے ۔ خیال رہے کہ سخت ترین سیکورٹی حصار میں جموں کشمیر کے 9اور نئی دہلی میں ایک مرکز پر ووٹ شماری ہو ئی ۔ حکام نے بتایا کہ وادی کشمیر میں سرینگر، بارہمولہ اور اننت ناگ میں گنتی مراکز کے ارد گر د سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے تھے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی غیر مجاز شخص احاطے میں داخل نہ ہو۔متعلقہ حلقوں میں پولنگ کے اختتام کے بعد سے ان سٹرانگ رومز کے ارد گرد سخت نگرانی رکھی گئی تھی جہاں الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں رکھی گئی تھی ۔










