لوک سبھا انتخابات:لائسنس شدہ تمام اسلحہ کو سات دنوںکے اندر اندر متعلقہ تھانوںمیں جمع کرنے کی ہدایت

انتظامیہ کی جانب سے پرنٹنگ پریس آپریٹرز کو پول پوسٹرز، متعلقہ مواد میں پرنٹ لائن کو یقینی بنانے کا حکم

سرینگر///پارلیمانی انتخابات شیڈول طے ہونے ساتھ ہی ضلع بانڈی پورہ میں لائسنس شدہ اسلحہ کو متعلقہ تھانوں میں جمع کرنے کی ضلع انتظامیہ نے لوگوں کو ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سات دنوں کے بعد جس کے پاس سے اسلحہ پایا جائے گا جو تھانوں میں جمع نہیں کیا گیا ہوگا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔ ا س کے علاوہ تمام پرنٹنگ پریسوں کو بھی ہدایت کی کہ وہ پرنٹ لائن میں کسی بھی انتخابی پمفلٹ کے یا پوسٹرزپرنٹر اور پبلشر کے نام اور پتے واضح طور پر درج کریں۔ وائس آف انڈیاکے مطابق لوک سبھا انتخابات کے شیڈول کے اعلان کے ساتھ ہی، ضلع انتظامیہ بانڈی پورہ نے تمام عام شہریوں اور فورسز کے اہلکاروں (ریٹائرڈ اور سروسنگ) سے کہا ہے کہ جن کے پاس اسلحہ اور گولہ بارود ایک درست اسلحہ لائسنس پر موجود ہے وہ سات دنوں کے اندر اند رمتعلقہ تھانوں میں جمع کرائیں۔ضلع الیکشن آفیسر،ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بانڈی پورہ شکیل الرحمٰن (آئی اے ایس) نے شمالی کشمیر کے ضلع کے علاقائی دائرہ اختیار میں کام کرنے والے تمام پرنٹنگ پریسوں کو بھی ہدایت کی کہ وہ پرنٹ لائن میں کسی بھی انتخابی پمفلٹ کے یا پوسٹرزپرنٹر اور پبلشر کے نام اور پتے واضح طور پر درج کریں۔ ضلع مجسٹریٹ نے سیکشن 144سی آر پی ایس کے تحت دیئے گئے اختیارات استعمال کرتے ہوئے انہوںنے ضلع کے حدود میں رہنے والے تمام شہریوں اور فورسز اہلکاروں ، سبکدوش یا ’ان سروس‘ جو ابھی بھی اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں اور و اس وقت ضلع بانڈی پورہ کے علاقائی دائرہ اختیار میں مقیم ہیں اور جن کے پاس ایک درست اسلحہ لائسنس پر اسلحہ اور گولہ بارود ہے وہ اس حکمنامے کے جاری ہونے کے مقررہ مدت کے اندر اپنے اسلحہ اور گولہ بارود کو متعلقہ تھانے میں جمع کرائیں گے۔ جبکہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مواصلات میں موجود ہدایات کے مطابق، انتخابی عمل کے اختتام تک نئے اسلحہ لائسنس کے اجراء پر مکمل پابندی ہوگی۔دریں اثناانہوں نے یہ بھی حکم دیا کہ تمام پرنٹنگ پریس، جو کہ ضلع بانڈی پورہ کے علاقائی دائرہ اختیار میں کام کرتے ہیں، پرنٹ لائن میں کسی بھی انتخابی پمفلٹ یا پوسٹر یا اس طرح کے دیگر مواد کے پرنٹر اور پبلشر کے نام اور پتے واضح طور پر درج کریں۔انتظامیہ نے پرنٹنگ پریس کے مالکان/آپریٹرز کو عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کے سیکشن 127 اے کی دفعات اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ہدایات کی کسی بھی خلاف ورزی کے خلاف متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا جائے گا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔