کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے فی کس آمدنی میں اضافہ کے مودی حکومت کے دعووں کو محض ایک پروپیگنڈہ قرار دیا ہے۔ کھڑگے نے الزام عائد کیا کہ فی کس آمدنی میں اضافہ کا دعویٰ بی جے پی کا ہیڈلائن مینجمنٹ ہے، حقیقی ڈاٹا اس سے کافی مختلف ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہیڈلائن مینجمنٹ کے بی جے پی کے جال میں نہ پھنسیں۔ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ آپ کی آمدنی بڑھانے کے لیے کانگریس کے ذریعہ دی گئی سیکورٹی کا ’چھاتہ‘ آپ کی آمدنی بڑھانے کے لیے بی جے پی کی تشہیر سے زیادہ مضبوط تھا۔ انھوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ 2004میں جب یو پی اے برسراقتدار آیا تھا تب فی کس آمدنی 24143روپے تھی جو 2014 میں بڑھ کر 86647روپے ہو گئی تھی جو 258فیصد کا اضافہ تھا۔مذکورہ بالا اعداد و شمار کا حوالہ پیش کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ اعداد و شمار خود حقائق بیان کرتے ہیں۔ 2022میں فی کس آمدنی 172000روپے تھی، جو 2014سے 98.5فیصد زیادہ رہا۔ اس سے واضح ہے کہ یو پی اے حکومت کے دوران ملک میں فی کس آمدنی میں ریکارڈ اضافہ درج ہوا، کیونکہ اس کا فوکس مجموعی ترقی پر تھا۔غور طلب ہے کہ نیشنل اسٹیٹسٹکس آفس (این ایس او) نے اعداد و شمار جاری کر کہا ہے کہ پیور نیشنل انکم کے معاملے میں فی کس آمدنی موجودہ قیمتوں میں 23-2022 میں 172000 روپے تھی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 15.8 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ یہ 86647روپے سے تقریباً دوگنی ہے جو 15-2014 میں فی کس آمدنی تھی۔ اس سلسلے میں بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ 15-2014 کے بعد جب سے مرکز میں این ڈی اے حکومت آئی، تب سے ملک کی فی کس آمدنی دوگنی ہو کر 1.72 لاکھ روپے ہو گئی ہے










