مشرقی لداخ میں صورتحال کافی مستحکم ، ملک کو کافی در پردہ مسائل اور چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے تیار / جنرل منوج پانڈے
سرینگر// چین کے ساتھ لگنے والی سرحدوں پر حالا ت قابو میں ہے کا دعویٰ کرتے ہوئے فوجی سربراہ جنرل منوج پانڈے نے کہا کہ فوج سرحدوں کی حفاظت کیلئے پُرعزم ہے اور کسی بھی صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے ۔ سٹار نیوز نیٹ ورک کے مطابق فوج کے سربراہ جنرل منوج پانڈے نے مشرقی لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن کے ساتھ ساتھ سیاچن بیس کیمپ کا دورہ کیا اور وہاں آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔اس موقعہ پر آرمی چیف کو مشرقی لداخ پر خصوصی توجہ کے ساتھ سرحدوں کے ساتھ ساتھ سیکورٹی کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی جبکہ فورسز کی طرف سے آپریشنل تیاری کی اعلیٰ سطح پر روشنی ڈالی گئی۔ان کے ہمراہ شمالی فوج کے کمانڈر لیفٹنٹ جنرل اپیندر دویدی بھی شامل تھے ۔ فوجی چیف اپنے دورے کے دوران سیاچن بیس کیمپ اور فارورڈ پوسٹوں کا دورہ کیا اور وہاں آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔اس موقعہ پر انہوں نے لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے ساتھ دنیا کے سب سے مشکل اور ناگوار علاقے میں تعینات فوجیوں سے بات چیت کریں گے۔اس موقعہ پر انہوں نے بتایا کہ ملک کو کافی در پردہ مسائل اور چیلنجوں کا سامنا ہے تاہم ان سب سے نمٹنے کیلئے فوج ہمیشہ تیار ہے اور کسی بھی صورتحال کو مقابلہ کرنے کیلئے تیاری کی حالت میں رہتے ہیں ۔ پاکستان اور چین کے ساتھ کے ساتھ لگنے والی سرحدوں کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں آرمی چیف نے کہا کہ ہندوستان اور چین کے سینئر فوجی کمانڈر مشرقی لداخ میں تناؤ کے خاتمے کے لئے طریق کار کو مستحکم کرنے کے لئے بات چیت کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا ،کہ ہم کسی ایسے معاہدے تک پہنچنے کے لئے پرامید ہیں جو باہمی طور پر قابل قبول ہے اور پالیسی کی اہم رہنما خطوط پر عمل درآمد کرنے میں واقعی فائدہ مند ہے۔آرمی چیف نے یہ بھی کہا کہ مشرقی لداخ میں صورتحال کافی مستحکم ہے۔اونچائی والے خطے میں تعینات ہندوستانی فوجیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ مناسب لباس اور ہتھیاروں سے لیس ہیں ، اور مزید کہا کہ اس میں کوئی کمی نہیں ہے۔










