Sunil Sharma

عمر عبداللہ ریاستی درجے سے کم پر بھی راضی ہو سکتے ہیں// سنیل شرما

ریاستی درجے کی بحالی پر عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے، قائدِ حزبِ اختلاف کا الزام

سرینگر// یو این ایس// جموں و کشمیر اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما سنیل شرما نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور نیشنل کانفرنس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ عبداللہ خاندان نے کبھی اقتدار سے دستبردار ہونے کی روایت نہیں اپنائی اور اگر ان کے سیاسی مفادات اور پروٹوکول محفوظ رہیں تو عمر عبداللہ ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے سے بھی پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔یو این ایس کے مطابق جموں میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے سنیل شرما نے کہا کہ “عبداللہ خاندان استعفوں کی سیاست پر یقین نہیں رکھتا۔ اگر پروٹوکول اور سرکاری مراعات برقرار رہیں تو عمر عبداللہ مرکز کے زیر انتظام علاقے کی موجودہ حیثیت سے بھی کم کسی انتظامی بندوبست پر آمادہ ہو سکتے ہیں”۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ نیشنل کانفرنس نے ہمیشہ اقتدار، عہدوں اور سرکاری مراعات کو ترجیح دی ہے اور عوامی جذبات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی درجے کی بحالی کے معاملے پر بھی عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔سنیل شرما نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی جموں و کشمیر میں ترقی، شفاف حکمرانی اور جمہوری اداروں کے استحکام کے لیے پرعزم ہے، جبکہ حکمران جماعت آئینی اور انتظامی معاملات پر غیر ضروری ابہام پیدا کر رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کے مستقبل کے سیاسی اور انتظامی ڈھانچے پر بحث جاری ہے، تاہم بی جے پی کا موقف واضح ہے اور پارٹی عوامی فلاح و بہبود اور ترقیاتی عمل کو ترجیح دے رہی ہے۔قائدِ حزبِ اختلاف کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جموں و کشمیر کو دوبارہ مکمل ریاستی درجہ دینے کے مطالبے پر سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے اور مختلف جماعتیں اس حوالے سے اپنے اپنے موقف پیش کر رہی ہیں۔