dooran.in

عبداللہ برج سے براستہ کرسوراجباغ بنڈرام باغ تک ایکسپریس روڑکی تعمیر قصہ پارینہ

سری نگر//عبداللہ برج سے براستہ کرسوراجباغ بنڈرام باغ تک ایکسپریس روڑکی تعمیر قصہ پارینہ بن چکی ہے ،کیونکہ کرسوعلاقہ میں بنڈ روڑ کی کشادگی کیلئے دونوں اطراف ڈھانچوں وتجاوزات کوہٹانے کے باوجود اب اس اہم بائی پاس روڑ پر تعمیراتی کام گزشتہ کم وبیش 6ماہ سے بند پڑاہے ۔جے کے این ایس کے مطابق حکام نے سیول لائنز میں ٹریفک کے دبائو کوکم کرنے کیلئے کئی سال قبل عبداللہ برج سے رام باغ تک ایک ایکسپریس روڑ بنانے کومنطوری دی اوراس کام کیلئے لاگت کاتخمینہ 29کروڑ روپے لگایاگیا۔عبداللہ برج سے راجباغ کے کچھ نواحی علاقوں تک روڑ کی کشادگی کاکام مکمل کیاگیا،اور روڑ کے اس حصے کوتارکول ڈالکر پختہ بھی بنایاگیا لیکن کرسو راجباغ بنڈروڑ کی تعمیر کے کام میں کبھی کوئی تیزی دکھائی نہیں دی ۔کرسوراجباغ کے لوگوںنے بتایاکہ تقریباً7سال قبل کرسو بنڈ روڑ کی تعمیر کاکام محکمہ آراینڈ بی نے ہاتھ میں لیا ،اور یہ کام کسی ایک یا کچھ ٹھیکیداروںکو الاٹ بھی کیاگیا۔انہوںنے کہاکہ سال2021سے ہی یہاں کرسو بنڈ روڑ کے دونوں اطراف رہائشی وغیررہائشی ڈھانچوں اور دیگر تجاوزات کو ہٹانے کاکام شروع کیاگیا،اورمقامی لوگوںنے اس مہم میں کوئی رکائوٹ ڈالنے کے بجائے اپنے رہائشی مکانات اور دیگر تعمیرات کے حصوںکو ازخود مہندم بھی کیا۔انہوںنے بتایاکہ سال2022میں اس روڑ کی تعمیر کاکچھ کام کیاگیا اور روڑی ڈالی گئی لیکن اب گزشتہ تقریباً6ماہ سے کرسوبنڈ روڑ کی تعمیر کاکام بندپڑاہے ،اوریوں عبداللہ برج سے رام باغ تک ایکسپریس روڑبنانے کاپروجیکٹ بھی تشنہ تکمیل پڑاہے ۔جون 2021میں کرسو راجباغ کے لوگوںنے اس روڑ کی تعمیر کامعاملہ اسوقت کے مشیر برائے لیفٹنٹ گورنر کی نوٹس میں تحریری طور پرلایا۔29جون2021کو متعلقہ مشیر کے پرائیویٹ سیکرٹری نے کرسوراجباغ کے لوگوںکی درج شکایت کے سلسلے میں چیف انجینئر محکمہ آراینڈ بی کشمیر کوایک یاددہانی خط ارسال کیا،جس میںموصوف پرائیویٹ سیکرٹری نے کرسوراجباغ کے عوامی وفد کی جانب سے پیش کردہ میمورنڈم یا نمائندگی کاحوالہ دیتے ہوئے چیف انجینئر موصوف سے کہاکہ مجھے مشیر کی جانب سے یہ ہدایت دی گئی کہ میں آپ کی نوٹس میں یہ بات لائوںکہ عبداللہ برج سے رام باغ تک ایکسپریس روڑ کی تعمیر کیلئے 29کروڑ روپے منظور کئے گئے ہیں ،اورسال2016میں اس روڑ کی تعمیر کاکام ہاتھ میں لینے کے باوجود ابتک مذکورہ روڑ کی تعمیر کاکام مکمل نہیں ہوا ہے ۔پرائیویٹ سیکرٹری نے چیف انجینئر محکمہ آراینڈ بی کشمیر سے اس معاملے کو دیکھنے کی استدعاکی ۔کرسو راجباغ کے لوگوںنے بتایاکہ جب سے کرسوبنڈروڑ کی کشادگی اورتعمیرنو کیلئے انہدامی کارروائی عمل میں لائی گئی ،تب سے اس روڑ کی حالت انتہائی خستہ ہوچکی ہے جبکہ اس روڑ سے اُٹھنے والا سارا گردوغبار نزدیکی مکانات میں چلاجاتاہے اورساتھ ہی راہگیروںکو بھی یہاں سے چلنے میں سخت دشواریوںکاسامنا کرنا پڑرہاہے ۔مقامی لوگوںنے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا سے اس معاملے میں مداخلت کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ اسمارٹ سٹی پروجیکٹ کی تکمیل کے بعد عبداللہ بر ج سے رام باغ تک منظور شدہ ایکسپریس روڑ کی اہمیت بڑھ جائیگی ،اسلئے کرسوراج باغ سے رام باغ تک اس روڑ کی تعمیر کاکام جلد بحال کراکے اس کومکمل کیاجائے ۔