بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ اور نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس جمعرات کو ڈھاکہ پہنچ گئے ہیں۔ وہ آج اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔
ڈاکٹر یونس مقامی وقت کے مطابق دوپہر سوا دو بجے پیرس سے بذریعہ دبئی ڈھاکہ کے حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہچنے تو آرمی چیف جنرل وقار الزمان، طلبہ تحریک کے رہنماؤں سمیت دیگر اہم شخصیات نے ان کا استقبال کیا۔ایئرپورٹ پر طلبہ کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر یونس نے کہا کہ وطن واپس پہنچ کر خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ طلبہ نے ملک کو بچایا ہے اور اب ہمیں آزادی کی حفاظت کرنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کے استعفے اور ملک سے فرار کے بعد ایک سازش کے تحت اقلیتوں پر حملے کیے گئے۔ اب ہمیں ملک میں امن اور استحکام کے لیے کام کرنا ہے۔
ڈھاکہ پہنچنے سے قبل ایک ٹربیونل نے بدھ کو انہیں لیبر قوانین کی خلاف ورزی کے ایک کیس سے بری کیا تھا۔ اس مقدمے میں انہیں چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی اور وہ ضمانت پر تھے۔
خبر رساں ادارے’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق ڈاکٹر یونس کا نام عبوری حکومت کے سربراہ کے طور پر اس وقت سامنے آیا تھا جب وہ پیرس اولمپکس مقابلے دیکھنے کے لیے فرانس میں موجود تھے۔
وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کے پیر کو عہدے سے استعفے اور ملک سے فرار ہونے کے بعد طلبہ تحریک کے رہنماؤں نے عبوری حکومت کے سربراہ کے لیے ڈاکٹر یونس کا نام دیا تھا۔ بعد ازاں صدر محمد شہاب الدین نے منگل کو انہیں عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کر دیا تھا۔
عبوری کابینہ کی حلف برداری
بنگلہ دیش کے مقامی اخبار ڈیلی اسٹار کے مطابق آرمی چیف کے مطابق عبوری حکومت کے سربراہ کی حلف برداری کی تقریب جمعرات کی شب آٹھ بجے ہو گی جس میں لگ بھگ 400 اعلیٰ شخصیات شریک ہوں گی۔ آرمی چیف نے بتایا کہ عبوری حکومت ابتدائی طور پر 15 ارکان پر مشتمل ہو گی۔ تاہم انہوں نے ارکان کے نام اور عبوری حکومت کی مدت کے بارے میں مزید تفصیل نہیں بتائی۔
پیرس سے ڈھاکہ کے لیے روانگی سے قبل ڈاکٹر محمد یونس نے اپنے ایک پیغام میں بنگلہ دیش کے شہریوں کو پرامن رہنے کی ہدایت کی ہے۔
پیرس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ملک پہنچ کر صورتِ حال کا جائزہ لیں گے کہ مسائل سے کس طرح باہر نکلا جائے۔
انتخابات کے انعقاد سے متعلق سوال پر ڈاکٹر یونس نے اپنے ہاتھ ہوا میں بلند کیے اور اشارہ دیا کہ اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بنگلہ دیش پہنچ کر انتخابات کے بارے میں اسٹیک ہولڈرز سے بات کریں گے۔
محمد یونس ایسے موقع پر ڈھاکہ پہنچ رہے ہیں جب شیخ حسینہ کے استعفے کے تین روز بعد معمولات زندگی بحال ہو رہی ہے۔
کاروبار اور فیکٹریاں کھل گئی ہیں اور لوگ واپس اپنے کام کاج میں لگ گئے ہیں۔
بدھ کو فوجی ہیڈ کوارٹر میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران آرمی چیف جنرل قمر الزمان نے کہا کہ ملک بھر میں صورتِ حال بہتری کی جانب گامزن ہے اور امید ہے کہ آئندہ تین سے چار روز میں حالات معمول پر آجائیں گے۔ آرمی چیف نے کہا کہ ڈاکٹر یونس سے ان کی بات ہوئی ہے اور وہ اپنے ذمے داریاں سنبھالنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ ان کے بقول “بحریہ، فضائیہ کے سربراہان اور میں ان کا ساتھ دیں گے۔”
البتہ طلبہ تحریک کے رہنما عندیہ دے چکے ہیں کہ انہیں حکومت میں فوج کی مداخلت یا فوجی کی شمولیت قبول نہیں ہے۔
سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خلاف عوامی اشتعال کی ایک بڑی وجہ معاشی بد حالی تھی۔
شیخ حسینہ کے دور میں بنگلہ دیش میں ملبوسات کے اہم شعبے میں ترقی کی وجہ سے 450 ارب ڈالر کی معیشت میں بہتری آئی تھی۔ لیکن حالیہ برسوں میں مہنگی درآمدات، مہنگائی، بے روزگاری اور زرِ مبادلہ کے سکڑتے ہوئے ذخائر نے اسے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے چار ارب 70 کروڑ ڈالر کا قرض لینے پر مجبور کیا تھا۔
ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی‘ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ بنگلہ دیش میں مظاہروں نے اقتصادی ترقی، مالیاتی کارکردگی، اور بیرونی میٹرکس کے لیے گراوٹ کے خطرات میں اضافہ کر دیا ہے۔ اگر سماجی اور سیاسی صورتِ حال جلد معمول پر آ گئی اور بنگلہ دیش میں نئی حکومت قائم ہو گئی تو کریڈٹ میٹرکس کو پہنچنے والے نقصان پر قابو پایا جا سکتا ہے۔










