سرینگر//جموں و کشمیر کا کشتواڑ ضلع شمالی ہندوستان کا سب سے بڑا پاور ہب بن جائے گا جو بجلی کے جاری منصوبوں کی تکمیل کے بعد تقریباً 6000 میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا ۔ کشتواڑ سے حاصل ہونے والی اضافی بجلی کا استعمال نہ صرف یو ٹی کے دیگر حصوں کیلئے کیا جائے گا بلکہ اسے دوسری ریاستوں کو بھی فروخت کیا جائے گا ۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ 1000 میگاواٹ کا پکل ڈول پروجیکٹ ، 624 میگاواٹ کیرو پروجیکٹ ، 540 میگاواٹ کا کاور پروجیکٹ اور 930 میگاواٹ کا کرتھائی پروجیکٹ ایک دوسرے کے قریب واقع ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ 850 میگاواٹ کے رتلی پروجیکٹ کو مرکز اور یو ٹی دونوں کے درمیان مشترکہ منصوبے کے طور پر بحال کیا گیا ہے ۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ نیشنل ہائیڈرو پروجیکٹ کارپوریشن ( این ایچ پی سی ) کے سی ایم ڈی ( چئیر مین اور منیجنگ ڈائریکٹر ) اے کے سنگھ نے مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ سے ملاقات کی اور انہیں کشتواڑ میں جاری پاور پروجیکٹوں کی صورتحال کے بارے میں بتایا جو مکمل ہونے پر ضلع کشتواڑ کا بجلی پیدا کرنے والا ایک بڑا پاور ہب بنائیں گے ۔ دریا کا رُخ موڑنے کے بعد پکل ڈول ایچ ای پروجیکٹ ( 1000 میگاواٹ ) زیر تعمیر ہے یہ منصوبہ 3230 میگاواٹ بجلی سالانہ پیدا کرے گا اور جولائی 2025 تک مکمل ہونے کی امیدہے ۔ کیرو ایچ ای پروجیکٹ ( 624 میگاواٹ ) بھی زیر تعمیر ہے ۔ دریا کا رُخ موڑنے کا کام حال ہی میں کیا گیا تھا اور مکمل ہونے کے بعد اس سے سالانہ 2272 میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی ۔ یہ منصوبہ جولائی 2025 تک مکمل ہونے کی امید ہے ۔ کاور ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ ( 540 میگاواٹ ) پر کام 2022 میں شروع ہوا تھا اور اس پروجیکٹ سے سالانہ 1975 ایم یوز پیدا ہوں گے اور نومبر 2026 میں مکمل ہونے کا شیڈول ہے ۔ اسی طرح رتلی ایچ ای پروجیکٹ ( 850 میگاواٹ ) زیر تعمیر ہے اور جنوری 2022 میں ای پی سی کنٹریکٹ دے کر کام شروع کیا گیا ۔ ان تمام پروجیکٹوں کے شروع ہونے سے جموں و کشمیر کی بجلی کی ضرورت میں زبردست بہتری آئے گی اور صفر کاربن کے اخراج کے ہدف کو حاصل کرنے میں مدد ملے گی ۔ حال ہی میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کشتواڑ میں دریائے چناب پر بالترتیب 5300 کروڑ روپے اور 4500 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کئے جانے والے رتلی( 850 میگاواٹ ) اور کاور (540 میگاواٹ ) ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹوں کا سنگِ بنیاد رکھا۔اسی طرح شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ ضلع کے گریز علاقے میں دریائے کشن گنگا پر کشن گنگا ہائیڈرو پاور 330 میگاواٹ ، پروجیکٹ جہلم پروجیکٹ کی ایک معاون دریا ایک کامیابی کی کہانی ہے ۔ اس پروجیکٹ نے جموں و کشمیر کی ترقی کے سفر میں ایک نئی جہت کا اضافہ کیا ۔ ضلع بانڈی پورہ میں یہ پروجیکٹ جموں و کشمیر کو 13 فیصد مفت بجلی فراہم کرتا ہے جس میں ایک فیصد لوکل ایریا ڈیولپمنٹ فنڈ بھی شامل ہے ۔ تین ٹربائنوں پر مشتمل یہ پاور پروجیکٹ کرال پورہ ماتریگام میں 750 کنال اور گریز کے علاقے میں 4200 کنال پر پھیلا ہوا ہے جہاں سے پانی 23.5 کلو میٹر لمبی سرنگ کے ذریعے آتا ہے ۔ جموں و کشمیر انتظامیہ نے یو ٹی میں پاور سیکٹر کو بہتر بنانے کیلئے مختلف اصلاحات شروع کی ہیں ۔ حکومت لوگوں کی بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے نئے پاور انفراسٹرکچر کو تیار کرنے اور بہتر بنانے کیلئے ایک مشن موڈ کے تحت کام کر رہی ہے ۔ آخری میل کنیکٹوٹی اور یونیورسل گھریلو بجلی کی مرکزی سیکٹر اسکیم کی صد فیصد سیچوریشن کو یقینی بنانے کیلئے بے مثال سنگِ میل حاصل کئے گئے ہیں ۔ 6500 سے زائد نئے ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمرز نصب کئے گئے ہیں اور دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں بجلی کی تقسیم کے اعتبار کو یقینی بنایا گیا ہے ۔ ترسیل اور تقسیم کی صلاحیت میں اضافہ کیا گیا ہے ۔ چوٹی کے دنوں میں بھی زیادہ بجلی فراہم کی گئی ہے ۔ بجلی کے اہم منصوبے جو کئی دہائیوں سے لٹکے ہوئے تھے اب ان پر عملدرآمد ہو رہا ہے ۔ اگلے تین برسوں میں جموں و کشمیر 70 برسوں میں حاصل کی گئی صلاحیت کے برابر بجلی پیدا کرنے کیلئے تیار ہے ۔










