ضلع پلوامہ میں بیک ٹو وِلیج کے پانچویں مرحلے کا پروگرام اِختتام پذیر

بیک ٹو وِلیج کے پانچویں مرحلے نے جامع کمیونٹی کی شمولیت سے دیہی پلوامہ کو فروغ دیا

پلوامہ//ضلع پلوامہ میں 9 ؍نومبر کو شروع ہونے والے بیک ٹو ولیج کے پانچویں مرحلے کا پروگرام آج کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا جو دیہی ترقی کے ایک اہم باب کی نشاندہی کرتا ہے۔اِس یادگار کاوش نے نچلی سطح پر شہریوں سے براہِ راست منسلک ہو کر مثبت تبدیلی لانے کے لئے حکعمت کے عزم کو اُجاگر کیا۔اِس پروگرام کودوباریک بینی سے منصوبہ بند مراحل میں ترتیب دیئے گئے ضلع کی تمام 190پنچایتوں میںسامنے آیا اور اس میں ضلع بھر کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کی شرکت شامل تھے۔ وِزیٹنگ افسران جو ترقی کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، نے عوام کے ساتھ سرگرمی کے سے بات چیت کی ، اِس بات کو یقینی بنایا کہ کمیونٹی کی آواز سنی جائے۔ عمیق نقطہ نظر میں مختلف منصوبوں کا مکمیل معائینہ شامل تھا جس میں ہر علاقے کی اہم ضروریات کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے کے لئے ایک ہینڈ آن طریقہ کار پر زور دیا گیا تھا۔ ’بیک ٹو ولیج ‘کے پانچویں پروگرام نے گرہ پرویش کی تقریبات سے پروجیکٹوں کا آغاز کیا گیا جس سے پی ایم اے وائی گھروں کا اِفتتاح ہوا ۔ اِس پروگرام کا ایک اہم جزو نشا مُکت کے وعدوں کو اَنجام دیا گیا جس میں کمیونٹی کی مجموعی ترقی اور اَپنے شہریوں کی فلاح و بہبود اور ’ نشامُکت ‘ پلوامہ کو یقینی بنانے کے لئے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ضلع پلوامہ میں مختلف محکموں کے افسروںاور ملازمین کی فعال شمولیت نے’’ بیک ٹو وِلیج ‘ کے پانچویں مرحلے کا پروگرام کی کامیابی میں اہم کردار اَدا کیا۔ ہر پنچایت حلقہ میں ان کی وسیع پیمانے پر موجودگی نے اس بات کو یقینی بنایا کہ شہریوں کو سرکاری سکیموں کے بارے میں اچھی طرح سے آگاہ کیا گیا ہے بالخصوص مرکزی معاونت والی سکیموں اور خود روزگار پیدا کرنے کے اَقدامات پر زور دیا گیا ہے۔ان مؤثر سرگرمیوں کے علاوہ نئے عملانے والے پروجیکٹوں کی اِفتتاحی تقریبات مناسب دھوم دھام اور شان و شوکت کیس اتھ منعقد کی گئیں ۔ مزید برآں استفادہ کنندگان کی پذیرائی نے مختلف محکموں کے کام کے ٹھوس نتائج کی یاد دہانی کے طور پر کام کیا۔ اِن تقریبات نے ضروری خدمات کی فراہمی، خود کفالت کو فروغ دینے اور زندگی کے مجموعی معیار زندگی کو نمایاں طور پر بہتر بنانے کے لئے حکومت کے عزم کو اُجاگر کیا۔نا کر دیہی علاقوں کو تبدیل کرنے کے لیے حکومت کی لگن کو اجاگر کیا۔تمام پنچایتوں کا احاطہ کرتے ہوئے دو مرحلوں میں اس پروگرام کا منظم نقطہ نظر شمولیت اور جامع دیہی ترقی کے لئے حکومت کے عزم کی مثال ہے۔ پروگرام کا اختتام حکومت، وزیٹنگ افسران اور مقامی کمیونٹی کی اجتماعی کوششوں کا ثبوت ہے اور منصوبہ بندی اور ترقیاتی عمل میں شہریوں کو فعال طور پر شامل کرکے’بیک ٹو وِلیج ‘کے پانچویں مرحلے کا پروگرام دیر پا دیہی ترقی کی جانب تبدیلی کی راہ ہموار کی ہے۔