دیگر لوگ پانی کی بوند بوند کیلئے ترس رہے ہیں ، اعلیٰ حکام سے توجہ کی اپیل
سرینگر//ضلع اننت ناگ کے مختلف علاقوں میں کچھ خود غرض عناصر پینے کے صاف پانی کو بے تحاشہ ضائع کررہے ہیں جس کے نتیجے میں دیگر لوگ پینے کے صاف پانی سے محروم ہے جبکہ قصبہ کے مختلف علاقوں میں سپلائی پائپیں لیک ہونے سے بھی قیمتی پانی ضائع ہوجاتا ہے جس کیطرف متعلقہ محکمہ توجہ نہیں دے رہا ہے۔ و?س آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے مختلف علاقوں جن میں ہیون کالونی،آشاجی پورہ ، رہہو منگہال، ہانجی دانتر ، میر دانتر ، پشوارہ ، منیوارہ، ملک پورہ اور آس پاس کے علاقوں میں پانی کی شدید قلت پائی جاتی ہے تاہم اس کے پیچھے ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ مذکورہ علاقہ جات کے چند خود غرض عناصر اپنے سبزی کی اراضی ، باغات اور سڑکوں کے علاوہ مختلف فروعی کاموں کیلئے پینے کا صاف پانی استعمال کررہے ہیں جس کے نتیجے میں علاقہ کے دیگر لوگ پینے کے صاف پانی سے محروم ہوجاتے ہیں۔اس سلسلے میں مقامی لوگوں نے وی او ب نمائندے امان ملک کو بتایا کہ پینے کا صاف پانی زمین کے سنچائی میں استعمال کرنے سے علاقہ کو پینے کے صاف پانی کی قلت پیدا ہوجاتی ہے۔ لوگوں نے کہا کہ اگر انہیں باغات کو پانی دینا ہے سبزی زمین سینچنا ہے تو اس کیلئے ندی نالوں کا پانی استعمال کیا جانا چاہئے۔ ادھر معلوم ہوا ہے کہ قصبہ کے مختلف علاقوں میں پی ایچ ای کی جانب سے نصب کی گئی پانی کی سپلائی لائن کافی جگہوں سے لیک ہے جس کی وجہ سے قیمتی پانی ضائع ہوجاتا ہے۔ لوگوں نے اس سلسلے میں محکمہ پی ایچ ای کے اعلیٰ زمہ داروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ضمن میں مداخلت کرکے پینے کا صاف پانی ضائع ہونے سے بچائیں۔










