لاکھوں افراد پر مشتمل درجنوں علاقوں میں ایک بھی سرکاری ڈسپنسری نہیں
سرینگر // صورہ سے پاندچھ ناگہ بل تک لاکھوں نفوس کی آبادی کیلئے ایک بھی ڈسپنسری یا اور کوئی سرکاری طبی ادارہ نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو علاج و معالجہ کی غرض سے گاندربل جانا پڑتا ہے ۔ جس کے باعث مریضوں کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا ۔سی این آئی کے مطابق شہری آبادی کو طبی سہولیات بہم رکھنے کے سرکاری دعوئوں کے بیچ شہر سرینگر کے مضافاتی علاقوں کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ طبی سہولیات سے محروم ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ صورہ ہسپتال کو چھوڑ کر صورہ ، بژھ پورہ، الٰہی باغ، عمر ہیر، نیو عمر ہیر ، پاندچھ ، 90فٹ ، اور ناگہ بل تک درجنوں علاقے آتے ہیں جن کی آبادی لاکھوں لوگوں پر مشتمل ہے تاہم ان علاقوں میں سرکاری کی جانب سے ایک بھی ڈسپنری نہیں رکھی گئی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید پریشانیوں کا سامناکرنا پڑتا ہے ۔ مقامی لوگوں کے مطابق بژھ پورہ، عمر ہیر اور 90فٹ کے لوگوں کو گاندربل سب ڈسٹرکٹ ہسپتال یا ڈسپنری جانا پڑتا ہے اسی طرح پاندچھ اور دیگر لوگوں کو بھی اسی طرح دیگر علاقوں میں جانا پڑتا ہے جو ان کیلئے باعث پریشانی ہے ۔ مذکورہ علاقہ جاتے کے لوگوں نے آج اس سلسلے میں محکمہ صحت کے خلاف شدید ناراضگی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف محکمہ لوگوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے دعوے کررہی ہے تو دوسری طر ف ان درجنوں علاقوں کیلئے کوئی بھی طبی ادارہ قائم نہیں کیا گیا ہے ۔ادھر لوگوں نے کہا ہے کہ ان علاقوں میں طبی سنٹر نہ ہونے کی وجہ سے لوگ پرائیویکٹ کلینکوں پر جانے کیلئے مجبور ہوجاتے ہیں جہاں پر انہیں علاج پر خطیر رقم خرچ کرنی پڑتی ہے ۔ لوگوںنے اس سلسلے میں متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ مذکورہ علاقوں کیلئے ڈسپنسری یا ہیلتھ سنٹر کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ وقت ضرورت پر لوگوں کو فوری طبی امداد حاصل ہے ۔










