صرف مذہبی شناخت کی بنیاد پر کسی جائیداد کو وقف قرار نہیں دیا جا سکتا: مدراس ہائیکورٹ

نئی دہلی/ایجنسیز//مدراس ہائی کورٹ نے وقف جائیدادوں سے متعلق ایک اہم اور دور رس اثرات رکھنے والا فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی مسلم مذہبی ادارے کو محض اس کی مذہبی حیثیت کی بنیاد پر وقف بورڈ کی ملکیت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ کسی جائیداد پر وقف بورڈ کا اختیار اسی صورت میں قائم ہوگا جب وہ قانونی طور پر وقف کے نام رجسٹر ہو اور اس سے متعلق تمام ضروری سرکاری کارروائیاں مکمل کی گئی ہوں۔ یہ فیصلہ چنئی کے ٹرپلیکین علاقے میں واقع ایک درگاہ سے متعلق تنازع کی سماعت کے دوران سنایا گیا۔
معاملے میں تمل ناڈو وقف بورڈ نے ایک داخلی قرارداد کے ذریعے درگاہ کو وقف جائیداد قرار دے دیا تھا، جس پر متعلقہ فریق نے عدالت سے رجوع کیا۔
سماعت کے دوران عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ درگاہ وقف ایکٹ کے تحت نہ تو باضابطہ طور پر رجسٹر تھی اور نہ ہی اس کا سرکاری سروے کیا گیا تھا۔ ایسی صورت میں وقف بورڈ محض اپنی قرارداد کی بنیاد پر اس جائیداد پر ملکیتی حق کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔
عدالت نے اپنے حکم میں مزید کہا کہ وقف بورڈ کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی بھی جائیداد کو وقف قرار دینے سے قبل قانون میں طے شدہ تمام مراحل مکمل کرے۔ صرف یہ حقیقت کہ کوئی ادارہ درگاہ، مسجد یا دیگر مذہبی مرکز ہے، اسے خود بخود وقف جائیداد نہیں بناتی۔