Authorities fail to implement improvements in cities and towns

شہر وقصبہ جات میں بہتری کی عمل آوری میں حکام ناکام

سری نگر//مرکزی سرکارکی جانب سے جموں وکشمیر میں شہری سہولیات کوبہتر بنانے سے لیکر تعمیرو ترقی کے بنیادی ڈھانچے کومضبوط بنانے کیلئے کل29اسکیموں کے تحت سالانہ کروڑوں روپے فراہم اورواگزار کئے جاتے ہیں لیکن ان اسکیموں کے مثبت نقوش یافوائد کشمیرمیں نظر نہیں آتے ہیں ۔جے کے این ایس کودستیاب جانکاری کے مطابق مرکزی سرکارکی جانب سے سال2022تک سبھی بے گھرکنبوںکوگھردینے کی ایک جامع اسکیم’پردھان منتری آواس یوجناگرامین(PMAY-G) سال2016میں شروع کی گئی تھی ،اورگزشتہ 6برسوں کے دوران کشمیرکے دس اضلاع میں قائم میونسپل اداروں بشمول سری نگرمیونسپل کارپوریشن،میونسپل کونسلوں اورمیونسپل کمیٹیوں کوکروڑوں روپے سالانہ بنیادوں پرفراہم کئے گئے لیکن جانکاروںکی مانیں تو کشمیر کے میونسپل ادارے اس اسکیم کے تحت ملنے والے فنڈس یارقومات کومستحقین تک پہنچانے میں ناکام رہے ،جسکے نتیجے میں ہرسال مختص فنڈس کازیادہ ترحصہ لیپس Lapseہوجاتا ہے ،اوریوں مرکزی اسکیموں سے زمینی سطح پر مستحق طبقوںیاکنبوںکوکوئی راحت یافائدہ نہیں ملا۔’پردھان منتری آواس یوجناگرامین(PMAY-G)کے بارے میں جانکاری رکھنے والے ایک سینئر میونسپل افسر نے بتایاکہ اس اسکیم کے تحت مستحق کنبوںکی لسٹ مرتب کی جاتی ہے اورپھراُنھیں مکان کی سنگ بنیادڈالنے سے لیکر مکان تعمیرہونے تک قسطوں میں مقررہ امدادی رقم فراہم کی جانی ہے لیکن بیشتر مستحق کنبوں کوایک یادوسری وجہ سے مرکزکی جانب سے فراہم کی جانے والی مالی معاونت نہیں دی گئی ۔انہوںنے مزیدکہاکہ میونسپل اداروںمیں ماہرافسروں اورعملہ کی کمی کیساتھ ساتھ بیشتر میونسپل اداروںکی کمان کسی دوسرے محکمے کے افسر کے پاس بطوراضافی چارج رکھے جانے سے کوئی کام نہیں ہوپاتا ہے ۔مذکورہ میونسپل افسر نے بتایاکہ کشمیرمیں شمالی وجنوب نصف درجن سے زیادہ میونسپل کونسلوں اورکمیٹیوںکااضافی چارج اے ڈی سیز ،ایس ڈیم ایم یاپھرتحصیلدار کے پاس رکھاگیا ہے جبکہ باقی میونسپل کونسلوں اورکمیٹیوںکاکام کچھ ایسے اندازمیں چلایاجارہاہے کہ ایک ایک ایگزیکٹو افسر کے پا س کم سے کم دویاتین کونسلوںیاکمیٹیوںکاچارج رکھاگیا ہے ۔انہوںنے بتایاکہ اے ڈی سی ،ایس ڈی ایم ،تحصیلدار یا پھر ایک سے زیادہ کونسلوں یاکمیٹیوں کاچارج سنبھالے ہوئے ایگزیکٹو افسر اپناکام ٹھیک سے نہیں انجام دے پاتے ہیں ۔اس دوران ذرائع نے بتایاکہ میونسپل اداروں اورمحکمہ تعمیرات عامہ کے درمیان بھی کوئی تال میل نہیں ہے ،جسکے نتیجے میں گلی کوچوں یانالیوںکی مرمت سے لیکر دوسرے ضروری تعمیراتی،ترقیاتی یافلاحی کام بھی مقررہ وقت میں مکمل نہیں ہورہے ہیں اوریوںان کاموں کیلئے مختص رقومات کابڑا حصہ بھی لیپس ہوجاتاہے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جس کسی بھی میونسپل کونسل یاکمیٹی کوفراہم کی گئی رقم مقررہ وقت میں زیرتصرف نہیں لائی جاتی ہے ،وہ رقم ایسی کونسل یاکمیٹی کومنتقل کردی جاتی ہے ،جسکی کارکردگی بہتر یامثالی رہی ہو۔شہری بہبود کے کام نہ ہونے سے منتخب میونسپل کونسلر بھی نالاںوپریشان ہیں ،کیونکہ وہ اپنے ووٹروں کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں ۔شمال وجنوب ایسے درجنوں منتخب کونسلر تنگ آمدبہ جنگ آمد استعفیٰ دینے پرغور کررہے ہیں ۔ایسے کئی کونسلروںنے بتایاکہ میونسپل حکام ہماری بات سننے کوتیار ہی نہیں ہیں ۔انہوںنے کہاکہ ہماری تجاویز اورہماری سفارشات کوردی کی ٹوکری میں ڈالدیا جاتاہے ۔ناراض کونسلروںنے بتایاکہ کشمیر میں پردھان منتری آواس یوجناکے تحت بیشتر مستحق کنبے صرف اس بناء پر مالی معاونت حاصل نہیں کرپارہے ہیں ،کیونکہ میونسپل کونسلوں اورکمیٹیوں کے افسر یاملازم منتخب کونسلروںکاکوئی بی مشورہ ماننے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔انہوںنے کہاکہ ہمیں کسی خاطرمیں نہیں لایا جاتا ہے ،اوریہاں تک جن افسرو ں کے پاس میونسپل اداروںکااضافی چارج ہے ،وہ منتخب کونسلروں کے ساتھ بیٹھنے کوتیار نہیں ۔جانکارذرائع نے بتایاکہ مرکزی سرکار نے ملک بھرمیں چھاپڑی فروشوںکومالی معاونت فراہم کرکے اُنھیں اپنے پائوں پرکھڑاہونے کی ایک اسکیم رائج کی ہے ۔انہوںنے بتایاکہ پردھان منتری اسٹریٹ وینڈرس آتم نربھرندی(SVANidhi)کے تحت مستند یارجسٹرڈ چھاپڑی یاگلی فروشStreet-Vendorکوکوئی متبادل کام شروع کرنے کیلئے مرکزی اسکیم (SVANidhi)کے تحت پہلی قسط میں 10ہزار روپے بطور ورکنگ کیپٹل فراہم کیاجاناہے تاکہ وہ کوئی کاروبار یاکام شروع کرسکے لیکن کشمیر کے بیشتر میونسپل اداروںنے مستحق چھاپڑی فروشوں تک مرکزی سرکارکی یہ مالی معاونت نہیں پہنچائی ،اوریہی وجہ ہے کہ سری نگراورقصبہ جات میں آج بھی سینکروں چھاپڑی فرو ش اورگلی فروش سڑک کناروں پرنظر آتے ہیں ۔جانکار ذرائع نے بتایاکہ کشمیر میں ’’پردھان منتری آواس یوجنا‘اور پردھان منتری اسٹریٹ وینڈرس آتم نربھرندی(SVANidhi)کی ناکامی کی ایک بنیادی وجہ میونسپل اداروںمیں نظم ونسق کانہ ہونا ہے ۔