کسی بھی جگہ ٹرانسفار مر سرکار کے اعلان کے مطابق نصب نہیں کیاجاتاہے بجلی کانظام ہنوز وادی میں مفلوج
سرینگر//وادی کے دور دراز علاقوں میں بجلی کی عدم دستیابی نے صارفین کے لئے صورتحال انتہائی سنگین بنا دی ہے اور جبری کٹوتی کی انتہاء نے صارفین کو پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ساتھ ایگریمنٹ منسوخ کرنے پربھی مجبور کردیاہے اور لوگوں کوکہناہے کہ پچھلے تین ماہ سے جس بڑے پیمانے پربغیرمیٹروالے علاقوں میں بجلی فیس میں اضافہ کیاہے اور دوسری جانب بجلی شڈول کے مطابق فراہم نہیں کی جاتی وہ صافین کیلئے ناقابل قبول ہے ۔اے پی آئی نیوز کے مطابق وادی کشمیر میں شمالی گرڈ اور دوسرے زررائع سے برقی رو خریدنے کے بعد صارفین کو بجلی شڈول کے مطابق فراہم نہیں کی جاتی اور یہ بات حقیقت ہے کہ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن اپنے وعدے کو عملی جامہ پہنانے میں برُی طرح سے ناکام ثا بت ہوچکی ہے ۔جہاں بغیرمیٹروالے علاقوں میں بجلی کی آنکھ مچولی نے تمام حدیں پار کرلی ہے وہی بجلی کانظام برُی طرح سے مفلوج ہوچکاہے اور بجلی کے نظام کو درست کرنے کیلئے حیلے بہانے تلاش کئے جاتے ہے کسی بھی ورک شاپ میں ایک ہفتے سے پہلے ٹرانسفا رمروں کی مرمت نہیں ہوا کرتی ہے اور صارفین کو بیکار ہونے والے ٹرانسفار مروں کوخود ورک شاپوں تک پہنچانا پڑتا ہے اور پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن صارفین کواس کی برپائی نہیں کرتی ہے ۔ہائی ٹینشن لائنوں کی مرمت کادعوی ٰوادی کے طول ارض میں کھوکھلااور بے بنیاد ہے وادی کے تیس فیصد سے زیادہ علاقوں میں اب بھی درختوں او رڈھونڈوں پرترسیلی لائنیں بچھائی ہے او رجہاں بجلی کے کھمبے نصب کئے گئے ہے اور ہائی ٹینشن لائنیں بچھانے کاکام عمل میں لایاگیا وہ قوائد ضوابط کے تحت نہیں ۔عوامی حلقوں کے مطابق جموںو کشمیر انتظامی کونسلوں نے اعلان کیاتھا کہ شہروں میں آٹھ گھنٹوں کے بعد قصبوں میں بارہ گھنٹوں او ردیہی علاقوں میں بیکار ہوجانے والے ٹرانسفا رمروں کونصب کیاجائیگا۔ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے پاس بفر سٹاک موجود ہے او ربیکار ہونے والے ٹرانسفار مروالے علاقوں کوبجلی کی عدم دستیابی کاسامنا نہیں کرنا پڑیگا تاہم جتنے بھی ٹرانسفا رمر پچھلے تین ماہ سے بیکار پڑے ہے ورک شاپوں میں ان کی مرمت کے لئے مہینوں درکار ہے اور ایسے علاقوں کے لوگوں کو پندرہ بیس پچیس اور ایک ماہ بھی بجلی سے محروم رہناپڑتاہے ۔بجلی کی آنکھ مچولی نے طلبہ صارفین چھوٹے کارخانہ داروں کوپریشانیوں میں مبتلا کردیاہے اور صارفین کا یہ کہناہے بجلی فیس میں اضافہ ہوا ہے او راگرچہ اس اضافے پرصارفین نے پہلے ہی اپنی ناراضگی ظاہر کی تھی اب اب نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے جن اغراض مقاصد کے لئے پاور کارپوریشن کے ساتھ ایگریمنٹ کیاتھا اب وہ پورے نہیں ہوتے اگر پی ڈی ڈی محکمہ کا یہ دعویٰ ہے کہ بجلی فیس میں اضافہ ہونالازمی ہے تاکہ کارپوریشن خسارے سے دو چار ناہو تاہم صارفین کوبجلی بھی فراہم ہونی چاہے اور جوشڈول خود پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے مشتہر کیاہے اس پرکہی عمل درآمد نہیں ہورہی ہے ۔دیہی علاقوں میں رہنے والے طلبہ سالانہ امتحان کے لئے تیاری نہیں کرسکتے ہیں ہرایک کے گھر میں انوٹر یا جنریٹر نہیں ہوا کرتے ہے ۔وادی کشمیر میں غریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرنے والے کنبوں کی شرح 35%سے زیادہ ہے او ردور دراز علاقوں میں رہنے والے طلبہ لکڑی جلاکر گھر میں روشنی کیاکرتے ہے اور اس روشنی میںدرس تدریس ہونا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے ۔پی ڈی ڈی محکمہ لوگوں اور صارفین کے ساتھ انصاف کے تقاضوں کوپورا نہیں کرپارہے ہیں جسپرعوامی حلقوں نے ناراضگی ظاہر کی ہے ۔










