شوپیان کے منجھ مرگ علاقے میں لشکرطیبہ سے وابستہ 3مقامی ملی ٹنٹ ہلاک

لطیف احمد لون اور عمر نذیربٹ شہری ہلاکتوں میں ملوث تھے :اے ڈی جی پی کشمیروجئے کمار

شوپیان،سری نگر//تقریباً ایک ماہ تک ملی ٹنٹ مخالف کارروائیوں کے محاذ پر خاموشی رہنے کے بعد پیر اور منگل کی درمیانی رات پہاڑی ضلع شوپیان کے منجھ مرگ علاقے میں ایک خونین جھڑپ کے دوران لشکرطیبہ سے وابستہ 3مقامی ملی ٹنٹ مارے گئے ۔ ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس کشمیر وجے کمار نے منگل کو کہا کہ لشکر طیبہ کے 3ملی ٹنٹوں کوایک جھڑپ میں ہلاک کیاگیا، جن میں سے لطیف لون اورعمر نذیر،شوپیان میں کشمیری پنڈت پران کرشنا اوراننت ناگ میں نیپال کے تل بہادر تھاپا کے قتل میں ملوث تھے۔جے کے این ایس کوملی تفصیلات کے مطابق کشمیر پولیس زون نے ایک ٹویٹ میں جانکاری فراہم کی کہ کچھ ملی ٹنٹوںکی موجودگی سے متعلق مصدقہ اطلاع ملتے ہی پولیس ،فورسزاور فوج نے پیر کورات دیر گئے مشترکہ طور پر ضلع شوپیان کے منجھ مرگ علاقے کومحاصرے میں لیکر ملی ٹنٹ مخالف آپریشن شروع کیا۔دفاعی ترجمان نے کہاکہ سیکورٹی فورسز نے اچانک محاصرہ کرکے پورے علاقے کو سیل کردیا۔ انہوںنے کہاکہ جیسے ہی سیکورٹی فورسزکے اہلکار ہدف کے علاقے کے قریب پہنچے تو یہاں چھپے دہشت گردوں نے متعدد دستی بم پھینکے اور فوجیوں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔دفاعی ترجمان نے کہاکہ سیکورٹی فورسز نے کسی قسم کے جانی نقصان سے بچنے کو کو یقینی بناتے ہوئے درستگی کے ساتھ جوابی کارروائی کی اور یہاں موجود دہشت گردوں کوہلاک کر دیا۔انہوںنے جموںوکشمیر پولیس کاحوالہ دیتے ہوئے بتایاکہ مارے گئے تینوں دہشت گردوں کا تعلق لشکر طیبہ کی کالعدم تنظیم سے تھا اور ان کی شناخت عمر نذیر بٹ ساکنہ بونہ دیالگام، اننت ناگ ، دانش حسین ککرو ساکنہ قاضی حمام بارہمولہ اور لطیف احمد لون ساکنہ کچھ ڈورہ شوپیاں کے بطورہوئی ہے۔ دفاعی ترجمان نے کہاکہ جائے جھڑپ کی تفصیلی تلاشی لینے پر ایک اے کے سیریز کی رائفل، 2پستول اور دیگر جنگی سامان برآمد ہوا۔ادھر کشمیر پولیس زون نے اے ڈی جی پی کشمیر کا حوالہ دیتے ہوئے ٹویٹ کیاکہ منجھ مرگ شوپیان میں مارے گئے3 مقامی ملی ٹنٹوں میں سے2کی شناخت شوپیان کے لطیف لون کے طور پر ہوئی ہے، جو ایک کشمیری پنڈت پران کرشنا بٹ اور اننت ناگ کے عمر نذیر، جو کہ تل بہادر تھاپا کے قتل میں ملوث ہیں۔گاندربل میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے اے ڈی جی پی کشمیر وجے کمار نے کہا کہ شوپیان میں مارے گئے تین مقامی ملی ٹنٹوںمیں بارہمولہ کے پرانے شہر سے ایک نیا بھرتی ہوا دانش حسین ککرو بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہاکہ اقلیتوں کے قتل میں ملوث تما م ملی ٹنٹوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے اور صرف ایک ہی زندہ بچا ہے جس کا نام عادل وانی ہے، جس کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔