جموں و کشمیر میں دہشت گردی قابو میں ،نکسل ازم بھی تقریباً ختم

دہشت گردی ، دراندازی اور انتہا پسندی کے خاتمہ کیلئے ہر ممکن اقدامات جاری /امیت شاہ

سرینگر / / این این بی// قومی سلامتی کے مختلف چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹنے کیلئے دستیاب معلومات کا مصنوعی ذہانت کی مدد سے تجزیہ کرنے اور اس مقصد کے لیے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار وضع کرنے پر زور دیتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے تمام متعلقہ ایجنسیوں کو دراندازی کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے کی بھی ہدایت دی۔نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق نئی دہلی میں دو روزہ نیشنل سیکورٹی اسٹریٹیجیز کانفرنس اختتام پذیرہوئی ۔ کانفرنس کا افتتاح نئی دہلی میں انٹیلی جنس بیورو ہیڈ کواٹرس میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کیا۔ جموں و کشمیر پولیس کے اعلیٰ افسران نے کانفرنس میں ورچوئل موڈ کے ذریعے شرکت کی۔ ذرائع کے مطابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نلن پربھات، سی آئی ڈی، سیکورٹی کرائم برانچ کے سربراہان، کشمیر اور جموں کے پولیس سربراہان سمیت دیگر سینئر افسران نے بالترتیب سرینگر اور جموں میں واقع پولیس ہیڈکوارٹرس سے کانفرنس میں شرکت کی۔ذرائع نے بتایا کہ بعض دیگر پولیس افسران، جن میں ڈی آئی جی اور ایس ایس پی سطح کے افسران شامل ہیں، جو کانفرنس میں شرکت کے لیے منتخب کیے گئے ہیں، منگل کو ہونے والے اجلاسوں میں شامل ہوں گے۔کانفرنس میں سیکورٹی فورسز، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی پولیس فورسز اور دیگر متعلقہ ایجنسیوں کے تقریباً 850افسران براہِ راست اور ہائبرڈ موڈ میں شرکت کر رہے ہیں۔ کانفرنس کا انعقاد انٹیلی جنس بیورو کی جانب سے کیا گیا ہے۔24 اور 25 اگست کو ہونے والی اس دو روزہ کانفرنس میں دہشت گردی، دراندازی، انتہا پسندی، منشیات کا پھیلاؤ، نارکو ٹیررازم کی مالی معاونت، مالی فراڈ، غیر قانونی امیگریشن، سائبر جرائم اور انکرپٹڈ کمیونیکیشن ایپس سمیت قومی سلامتی سے متعلق متعدد اہم امور پر تفصیلی غور کیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق دہشت گردی اور اسمگلنگ کی سرگرمیوں میں ملوث مفرور افراد کو مرکزی اور ریاستی/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی ایجنسیوں کے درمیان بہتر تال میل کے ذریعے واپس لانے، اس کے علاوہ دیگر سکیورٹی اقدامات پر بھی کانفرنس میں غور کیا گیا ۔ امیت شاہ نے دہشت گردی اور انتہا پسندی سے مؤثر انداز میں نمٹنے کیلئے وزارت داخلہ کی پرہار اسکیم پر عمل درآمد کے لیے افسران کی تربیت پر زور دیا۔ انہوں نے مفرور ملزمان کو واپس لا کر مقدمات کی کارروائی تیز کرنے اور غیر موجودگی میں مقدمہ چلانے کی دفعات کے استعمال کی ہدایت بھی دی۔اس کانفرنس میں وزیر داخلہ امیت شاہ نے یو اے پی اے کے تحت درج مقدمات کی تحقیقات کیلئے جامع اور مربوط طریقہ کار اختیار کرنے پر بھی زور دیا۔شاہ نے ہدایت دی کہ ملٹی ایجنسی سینٹر پلیٹ فارمز پر دستیاب معلومات کا مصنوعی ذہانت کی مدد سے تجزیہ کیا جائے تاکہ قومی سلامتی کو درپیش مختلف چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر SOPs تیار کیے جاسکیں۔انہوں نے تمام متعلقہ سکیورٹی ایجنسیوں کو دراندازی کے خلاف سخت اقداما ت اٹھانے کی بھی ہدایت دی۔ذرائع کے مطابق کانفرنس کے مختلف اجلاسوں میں پاکستان کی جانب سے مبینہ طور پر اسپانسر کی جانے والی دہشت گردی، نارکو ٹیررازم، منشیات کے خطرے، دراندازی، ڈرون حملوں اور ان کے تدارک کے لیے حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔جموں و کشمیر کے حوالے سے ذرائع نے کہا کہ خطے میں دہشت گردی کو بڑی حد تک قابو میں لایا گیا ہے، جبکہ نکسل ازم بھی تقریباً ختم ہوچکا ہے۔ تاہم تازہ دراندازی کی کوششوں اور ہتھیاروں و منشیات کی اسمگلنگ کے لیے ڈرونز کے استعمال کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔ذرائع نے بتایا کہ پنجاب میں بھی دہشت گردی کے چند واقعات سامنے آئے ہیں۔ پنجاب میں بین الاقوامی سرحد پر ڈرونز کی موجودگی کے واقعات جموں خطے کے مقابلے میں زیادہ رپورٹ ہوئے ہیں۔ جموں، سانبہ اور کٹھوعہ اضلاع میں بھی پاکستان کے ساتھ بین الاقوامی سرحد کے قریب بعض اوقات ڈرونز دیکھے جاتے ہیں، تاہم انہیں اکثر واپس جانے پر مجبور کردیا جاتا ہے۔کانفرنس میں غیر قانونی تارکین وطن سے پیدا ہونے والے چیلنج پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق مغربی بنگال، آسام، شمال مشرقی ریاستوں کے بعض علاقوں اور جموں و کشمیر سمیت مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں غیر قانونی تارکین وطن کو سیکورٹی اور انتظامی چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔مرکزی وزارت داخلہ نے مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں غیر قانونی تارکین وطن کی آبادکاری کے باعث ہونے والی آبادیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ہی ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس کمیٹی نے 10 سے 12 اگست تک تین روزہ جموں دورہ کرکے غیر قانونی تارکین وطن، خصوصاً روہنگیا اور بنگلہ دیشی باشندوں کی موجودگی سے متعلق آبادیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لیا تھا۔کانفرنس میں وزیر مملکت برائے داخلہ، مرکزی داخلہ سکریٹری، ڈپٹی قومی سلامتی مشیران، مرکزی مسلح پولیس فورسز (CAPFs) اور مرکزی پولیس تنظیموں (CPOs) کے سربراہان سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔