اننت ناگ میں مطلوب خاتون منشیات فروش گرفتار,سرینگر میں 1.20 کروڑ مالیت کی جائیداد ضبط
سرینگر// یو این ایس//جموں و کشمیر میں جاری منشیات مخالف مہم کے تحت پولیس نے ایک بڑی کارروائی انجام دیتے ہوئے متعدد این ڈی پی ایس مقدمات میں مطلوب ایک بدنام زمانہ خاتون منشیات فروش کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس نے اس کے قبضے سے ہیروئن جیسا نشہ آور مادہ بھی برآمد کیا ہے۔پولیس ترجمان کے مطابق پولیس پوسٹ دیالہ گام کی ایک ٹیم نے لالان بائی پاس پر معمول کی ناکہ چیکنگ کے دوران ایک خاتون کو مشتبہ حالت میں آتے ہوئے دیکھا۔ جیسے ہی خاتون نے پولیس پارٹی کو دیکھا، اس نے موقع سے فرار ہونے کی کوشش کی، تاہم چوکنا ناکہ عملہ فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے موقع پر ہی دبوچنے میں کامیاب ہو گیا۔یو این ایس کے مطابقتلاشی کے دوران اس کے قبضے سے ہیروئن جیسا ممنوعہ مادہ برآمد ہوا۔ ابتدائی پوچھ تاچھ کے بعد خاتون نے اپنی شناخت شگفتہ اختر دختر محمد حسین ڈار، ساکن ڈینجر پورہ اننت ناگ کے طور پر ظاہر کی۔پولیس نے اس سلسلے میں ایف آئی آر نمبر 130/2026 کے تحت این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات 8/21 کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔حکام کے مطابق گرفتار خاتون پہلے سے ہی کئی منشیات سے متعلق مقدمات میں مطلوب تھی اور اس کی گرفتاری کو ضلع میں جاری نشہ مخالف مہم کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ پولیس نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ منشیات کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی اور ایسے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔یو این ایس کے مطابق پولیس نے منشیات کے خلاف جاری مہم کے تحت ایک اہم کارروائی انجام دیتے ہوئے ایک بدنام زمانہ منشیات فروش کی تقریباً 1.20 کروڑ روپے مالیت کی غیر منقولہ جائیداد کو ضبط کر لیا۔پولیس کے مطابق یہ کارروائی “نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان” کے تحت جاری 100 روزہ مہم کے دوران عمل میں لائی گئی۔ ضبط شدہ جائیداد میں تین منزلہ رہائشی مکان، ایک علیحدہ کنکریٹ کا باورچی خانہ جس میں تین واش رومز شامل ہیں، اور 9 مرلہ اراضی شامل ہے۔یو این ایس کے مطابق یہ جائیداد نثار احمد شیخ ولد حبیب اللہ شیخ، ساکن کنی دیور، شیخ محلہ حول، سرینگر کی ملکیت بتائی گئی ہے۔ پولیس تھانہ نوہٹہ میں درج ایف آئی آر نمبر 61/2019 کے تحت این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات 8/20 کے تحت یہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ جائیداد منشیات کی غیر قانونی تجارت سے حاصل کی گئی آمدنی سے بنائی گئی تھی۔ قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد اسے غیر قانونی اثاثہ قرار دیتے ہوئے ضبط کیا گیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں منشیات کے نیٹ ورکس کی مالی بنیادوں کو ختم کرنے کیلئے نہایت اہم ہیں اور مستقبل میں بھی ایسے عناصر کے خلاف سخت اقدامات جاری رہیں گے۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ منشیات کے استعمال یا اسمگلنگ سے متعلق کسی بھی اطلاع کو پولیس کے ساتھ شیئر کریں تاکہ اس ناسور کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔یو این ایس کے مطابق اس دوران پولیس نے ایک منظم منشیات اسمگلنگ نیٹ ورک کو بے نقاب کرتے ہوئے کنگ پن سمیت تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے اور بھاری مقدار میں ہیروئن اور نقدی برآمد کی ہے۔پولیس ترجمان کے مطابق مصدقہ خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے معلوم ہوا کہ بارہمولہ کے کنیس پورہ کے رہائشی ہلال احمد گنائی اور واگورہ کے پرویز احمد بٹ ہیروئن جیسی ممنوعہ اشیاء کی اسمگلنگ اور فروخت میں ملوث ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ دونوں ملزمان بنیہال سے قاضی گنڈ کی طرف قومی شاہراہ 44 کے ذریعے ایک گاڑی (بالینو) میں منشیات منتقل کر رہے تھے، جس کا مقصد مقامی نوجوانوں میں اس کی سپلائی تھا۔اس اطلاع پر پولیس کے پولیس اسٹیشن قاضی گنڈ نے فوری طور پر ایف آئی آر نمبر 108/2026 درج کر کے تحقیقات شروع کیں۔ بعد ازاں چوئی مولہ کے مقام پر ناکہ قائم کیا گیا، جہاں گاڑی کو روک کر دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔ تلاشی کے دوران ان کے قبضے سے تقریباً 50 گرام ہیروئن جیسا مادہ برآمد ہوا جبکہ استعمال شدہ گاڑی بھی ضبط کر لی گئی۔مزید تفتیش کے دوران پولیس نے اس نیٹ ورک کے ‘‘بیک ورڈ لنکیج’’ کو کھنگالتے ہوئے ایک بڑے سپلائر اور کنگ پن صادق حسین عرف شوکی، ساکن وجے پور، ضلع سامبا کی شناخت کی۔ عدالت سے سرچ وارنٹ حاصل کرنے کے بعد قاضی گنڈ پولیس نے سامبا پولیس کے تعاون سے ملزم کے گھر پر چھاپہ مارا اور اسے گرفتار کر لیا۔چھاپے کے دوران ملزم کے مکان، خصوصاً ایک اصطبل سے 152 گرام ہیروئن اور 52 ہزار روپے نقد برآمد کیے گئے۔ ابتدائی تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ یہ کنگ پن ایک منظم نیٹ ورک چلا رہا تھا، جس کے ذریعے جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں روزانہ کی بنیاد پر منشیات سپلائی کی جا رہی تھی، جس سے خصوصاً نوجوان نسل متاثر ہو رہی تھی۔پولیس کے مطابق اس نیٹ ورک کے مزید روابط کا پتہ لگایا جا رہا ہے اور آنے والے دنوں میں مزید گرفتاریاں اور برآمدگیاں متوقع ہیں۔ کارروائی ایس ڈی پی او قاضی گنڈ منصور ایاز اور ایڈیشنل ایس پی این ایچ ڈبلیو ممتاز علی بھٹی کی نگرانی میں انجام دی گئی۔ایس ایس پی کولگام چودھری عنایت علی نے نوجوانوں سے منشیات سے دور رہنے کی اپیل کرتے ہوئے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھیں۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ منشیات سے متعلق کسی بھی اطلاع کو پولیس کے ساتھ شیئر کریں، اس یقین دہانی کے ساتھ کہ اطلاع دینے والوں کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے گی۔پولیس نے واضح کیا کہ منشیات کے کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور اس ناسور کے مکمل خاتمے تک مہم جاری رہے گی۔










