بارہمولہ،کولگام//پولیس نے سماج سے منشیات کو ختم کرنے کی اپنی کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے، بارہمولہ اور کولگام میں7 منشیات فروشوں کو گرفتارکرکے اُن کے قبضے سے منشیات اورنشہ آورادویات کی بڑی مقدار ضبط کی۔جے کے این ایس کے مطابق منشیات فروشوں کے خلاف اپنی اپنی کاروائی جاری رکھتے ہوئے ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر بارہمولہ کی زیر نگرانی میں پولیس نے2 منشیات فروشوں عرفان احمد شیخ ولد مشتاق احمد شیخ اور شریف احمد شیخ ولد عبدالرشید شیخ ساکناں دیوان باغ بارہمولہ کو گرفتار کیا۔ان کی ذاتی تلاشی کے دوران ان کے پاس سے 295 گرام چرس جیسامادہ برآمد ہوااور انہیں فوری طور پر حراست میں لے لیا گیا۔تھانہ پولیس بارہمولہ نے اس سلسلے میں متعلقہ دفعات کے تحت کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی ۔اسی دوران ایک اور کاروائی کرتے ہوئے بارہ مولہ پولیس نے دیگر2 منشیات فروشوں کو بونیار مارکیٹ سے 28 گرام چرس اور 15 گرام ہیروئن جیسا مادہ سمیت گرفتارکیا۔ایس ڈی پی ائو اڑی کی زیر نگرانی کارروائی میںسخاوت خان ولد بالک حسین خان ساکن درگت لیان اوڑی اور سمیر احمد خان ولد ظہور اللہ خان ولد ظہور اللہ خان ساکن دوراں اوڑی کو مین بازار بونیار میں ناکہ چیکنگ کے دوان گرفتار کیاگیا۔تھانہ پولیس بونیار نے اس سلسلے میں کیس متعلقہ دفعات کے تحت درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ۔ادھربارہمولہ پولیس نے ایس ڈی پی ائو پٹن کی زیر نگرانی میں ایک اور منشیات فروش کو پلہالن مرن پٹن کے نزدیک گرفتارکیا جس کی شناخت معراج الدین صوفی ولد محمد صدیق صوفی ساکن بازار محلہ پٹن کے طو رپر ہوئی ہے۔ اس کے قبضے سے ممنوعہ نشیلی ادویات برآمد ہوئی ہے۔تھانہ پولیس پٹن نے اس سلسلے میں متعلقہ دفعات کے تحت کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کردی۔ اس کے علاوہ منشیات فروشوں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے ضلع پولیس کولگام کی پولیس پارٹی نے تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے کھڈوانی بائی پاس پر ناکہ لگایا اور چیکنگ کے دوران ایک گاڑی زیر رجسٹریشن نمبرDL7CR-8749 کو مشکوک حالت میں پایا اور اسی دوران 2 افراد کو حراست میں لیا جن کی شناخت یاور احمد راتھرولد عبدالغنی راتھر ساکن وگہامہ بجبہاڑہ اور ذیشان اشرف ولد محمد اشرف بخشی ساکن پہرو اننت ناگ کے طور پر ہوئی ہے۔تلاشی کے دوران متذکرہ گاڑی سے50 کلو گرام پوست کی بھوسے جیساممنوعہ مادہ برآمد ہوا ۔ دونوں منشیات فروشوں کو گرفتار کر کے جرائم میں استعمال ہونے والی گاڑی قبضے میں لے لی گئی۔تھانہ پولیس قیموہ کولگام نے اس سلسلے میں متعلقہ دفعا ت کے تحت کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کردی۔










