شعبۂ اردو، جامعہ کشمیر کی جانب سے سہ روزہ ورک شاپ بہ عنوان ’’اردو اساتذہ کی صلاحیت سازی‘‘ کا انعقاد

شعبۂ اردو، جامعہ کشمیر کی جانب سے سہ روزہ ورک شاپ بہ عنوان ’’اردو اساتذہ کی صلاحیت سازی‘‘ کا انعقاد

ورک شاپ کی افتتاحی نشست کا انعقادپروفیسر نیلوفر خان، وائس چانسلر، جامعہ کشمیر کی زیر صدارت

سری نگر//شعبہ اردو،جامعہ کشمیر کی جانب سے سہ روزہ (۲۱ تا ۲۳ نومبر،۲۰۲۳ء )ورک شاپ کی افتتاحی نشست کا انعقادپروفیسر نیلوفر خان، وائس چانسلر، جامعہ کشمیر کی زیر صدارت ای ایم ایم آر سی آڈی ٹوریم میں عمل میں لایا گیا۔ اس موقعے پر ڈاکٹر نثار احمد میر، رجسٹرار، جامعہ کشمیر اور جوائنٹ ڈائریکٹر اسکول آف ایجوکیشن محترم رؤف الرحمان بہ حیثیت مہمان ذی وقار موجود رہے۔ جب کہ بین الاقوامی شہرت یافتہ ادیب اور شاعر ڈاکٹر شفق سوپوری صاحب،پروفیسر عادل امین کاک، ڈین فیکلٹی آف آرٹس، جامعہ کشمیر مہمان خصوصی کے طور پر شریک رہے۔صدر شعبہ اردو، پروفیسر عارفہ بشریٰ صاحبہ بہ حیثیت میزبان شریک رہیں۔اس موقعے پر شعبہ اردو کے تین ریسرچ اسکالر ز ڈاکٹر عرفان رشید(عکس در عکس)،ڈاکٹر محمد یونس ڈار(متن سے معنی تک) اور الطاف احمد نظامی(تحریک آزادیٔ ہند اور سید عطا اللہ شاہ بخاری) کی کتابوں کی رسم رونمائی بھی انجام دی گئی۔ اس افتتاحی نشست کی نظامت کے فرائض شعبے کے اُستاد ڈاکٹر مشتاق حیدرصاحب نے خوش اسلوبی سے انجام دئیے جب کہ ڈاکٹر کوثر رسول صاحبہ نے تحریک شکرانہ ادا کرتے ہوئے سبھی مہمانان کا شکریہ ادا کیا ۔واضح رہے اس سہ روزہ ور ک شاپ میں۶۰ سرکاری و غیر سرکاری اسکولوں کے اردو اساتذہ نے شرکت کی ۔ علاوہ ازیں جامعہ کشمیر کے کئی اعلیٰ عہدہ داراں اور شعبہ جات کے صدورکے ساتھ ساتھ شعبہ اردو کے دیگر اساتذہ میں ڈاکٹر محمد ذاکر صاحب، ڈاکٹر ریاض احمد کمار صاحب، ڈاکٹر اُویس احمد صاحب، ڈاکٹر محمد یونس ٹھوکر صاحب، ڈاکٹر روحی سلطان صاحبہ اور ڈاکٹر راکیش کمار صاحب کے علاوہ ریسرچ اسکالروں اور طلبا نے شرکت کی۔ ورک شاپ کی پہلی تکنیکی نشست۲۱؍نومبر،۲۰۲۳ء کو دوپہر ۲ بجے سے ۳۰:۴ بجے تک شعبہ اردو، جامعہ کشمیر کے پروفیسر مجید مضمر ہال میں منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت ڈاکٹر شفق سوپوری صاحب اور ڈاکٹر جوہر قدوسی صاحب نے فرمائی۔ اس نشست کے ماہر مدرس ڈاکٹر محمد حسین زگر صاحب تھے جب کہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر اُویس احمد نے انجام دی۔ ماہر مدرس نے ’’اردو حروف تہجی کی شناخت : چند معروضات‘‘ کے عنوان سے لکچر دیا۔اُنھوں نے اردو حروف تہجی کی شناخت کے ساتھ ساتھ حروف تہجی کی ابتدائی، وسطی اور آخری شکلوں کی شناخت اور اُن کی تشکیل کے ساتھ ساتھ اعراب و علامات یعنی زبر، پیش، زیر،تشدید وغیرہ کی وضاحت کرتے ہوئے حروف تہجی کے درست تلفظ سے اساتذہ کو واقف کرایا۔ دوسری تکنیکی نشست ۲۲؍نومبر ۲۰۲۳ء کو صبح۳۰:۱۰ بجے سے ۳۰:۱ تک منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت صدر شعبہ کشمیری، جامعہ کشمیر پروفیسر محفوظہ جان صاحبہ ،پرنسپل ہندواڑہ کالج محترم مشتاق سوپوری صاحب اور ڈاکٹر نصرت جبین صاحبہ نے فرمائی۔ اس نشست کے ماہر مدرسین ڈاکٹر محی الدین زور کشمیری اور ڈاکٹر فیض قاضی آبادی تھے؛جنھوں نے بالترتیب ’’اردو تدریس کے مسائل اور امکانات‘‘ اور ’’طلبا میں انشا پردازی کی مہارت پیدا کرنا‘‘پر لکچر ز دئیے۔ نشست کی نظامت ڈاکٹر محمد ذاکر صاحب نے انجم دی۔ محی الدین زور کشمیری نے اپنے لکچر میںاس بار پر ارتکاز کیا کہ اردو تدریس کو جدید تکنالوجی سے جوڑنے کے کئی اہم اور کار گر طریقوں سے اردو اساتذہ کو واقف کرایا اور اسے محض ایک مفروضہ قرار دیا کہ اردو تدریس کو جدید تکنالوجی سے نہیں جو ڑا جا سکتا ہے۔ڈاکٹر فیض قاضی آبادی صاحب نے طلبا میں انشا پردازی کی مہارت کو بڑھانے کے لیے ذوق مطالعہ،تفکر ، مشق اور مشورے لازمی جزقرار دئیے ہیں۔تیسری تکنیکی نشست ۲۲؍نومبر، ۲۰۲۳ء کو دوپہر ۲ بجے سے ۳۰:۴ تک منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت صدر شعبہ فارسی پروفیسر جہانگیر اقبال صاحب، ڈاکٹر محی الدین زور کشمیری صاحب، ڈاکٹر شبینہ پروین صاحبہ اور سلیم سالک صاحب نے فرمائی۔ اس نشست کے ماہر مدرس محترم میر ساجد رمضان صاحب تھے؛ جنھوں نے ’’اردو اساتذہ اور جدید تدریسی مہارتیں‘‘ کے عنوان سے لکچر دیا۔ نشست کی نظامت ڈاکٹر راکیش صاحب نے انجام دی۔ ماہر مدرس نے اپنے لکچرکے دوارن اردو اساتذہ کے تدریسی عمل میں جدید تدریسی مہارتوں پر ارتکاز کرنے پر زور دیا ہے۔ اُنھوں کسی بھی موضوع کی تدریس کو دلچسپ اور موثر بنانے کے لیے کئی اہم مہارتوں کا تذکرہ کیا ہے۔ چوتھی نشست ۲۳؍ نومبر، ۲۰۲۳ء کو صبح ۳۰:۱۰ بجے سے ۳۰:۱۰ تک منعقد وہوئی۔ نشست کی صدارت صدر شعبہ ہندی پروفیسر زاہدہ جبین صاحبہ، پروفیسر معراج الدین صاحب،ڈاکٹر الطاف انجم اور ڈاکٹر محمد اسلم چودھری صاحب نے فرمائی۔ اس نشست کے ماہر مدرس محترم شاکر شفیع صاحب تھے؛ جنھوں نے ’’تدریس نثر‘‘ کے عنوان پر لکچر دیا۔نشست کی نظامت ڈاکٹر ریاض احمد کمار صاحب نے کی۔ ماہر مدرس نے اس بات پر ارتکاز کیا کہ نثر کی تدریس کے بعد طلبا اس قابل ہوجانے چاہیے کہ وہ کسی بھی عبارت کو درست تلفظ کے ساتھ پڑھ سکیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ اُن کے ذخیرہ ٔ الفاظ میں وسعت پیدا ہو اور وہ نئے الفاظ کے ساتھ ساتھ مرکبات، تراکیب ، محاورات اور ضرب الامثال سے واقف ہو جائیں۔اُنھوں نے کئی اہم طریق ہائے تدریس کا تذکرہ کیا ہے، جن سے نثر پاروں کی تدریس کو نہ صرف آسان بلکہ موثر بنایا جا سکتا ہے۔ پانچویں تکنیکی نشست ۲۳؍نومبر، ۲۰۲۳ء کو دوپہر ۲ بجے سے ۳۰:۴ تک منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت ڈین فیکلٹی آف آٹس، جامعہ کشمیر پروفیسر عادل امین کاک صاحب، صدر شعبہ اردو، پروفیسر عارفہ بشریٰ ، پروفیسر روبی زتشی اور ڈاکٹر راشد عزیزی نے فرمائی۔ اس نشست کی ماہر مدرس ڈاکٹر نصرت جبین تھی؛ جو مرکزی جامعہ کشمیر میں اپنی تدریسی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اُنھوں نے ’’تدریس نظم تقاضے اور حکمت عملی‘‘ کے عنوان سے لکچر دیا۔اس نشست کی نظامت ڈاکٹر محمد یونس ٹھوکر نے انجام دی۔ ماہر مدرس نے نظم اور نثر کے بنیادی فرق کو سمجھاتے ہوئے نظم کے تقاضوں کا ذکر کرتے ہوئے مدرس کے لیے شاعری کی روایت سے واقفیت، نمائندہ نظم گو شعرا کی نظموں سے شناسائی، شعر فہمی کے جمالیاتی شعور، نظم کی قرأت مثلاً: تحت اللفظ اورترنم وغیرہ سے واقفیت کو ناگزیر قرار دیا ۔ اُس کے بعد تقسیم اسناد کی تقریب کا انعقاد ہوا جس کی صدارت ڈین فیکلٹی آف آرٹس، پروفیسر عادل امین کاک صاحب، صدر شعبہ اردو، پروفیسر عارفہ بشریٰ صاحبہ اور روبی زتشی صاحبہ نے فرمائی۔