سرینگر// وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کے مختلف حصوں میں جاری شدید گرمی اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے پیش نظر عوام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی صحت کا خصوصی خیال رکھیں، زیادہ سے زیادہ پانی پئیں اور دھوپ میں نکلتے وقت ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔اتوار کو اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’’من کی بات‘‘ میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کے بیشتر علاقوں میں درجہ حرارت غیر معمولی طور پر بڑھ رہا ہے، اس لیے عوام کو اپنی حفاظت کے لیے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا، ’’شدید گرمی کے اس موسم میں ضروری ہے کہ لوگ اپنے جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں، مسلسل پانی پیتے رہیں اور اگر دھوپ میں باہر نکلنا ناگزیر ہو تو احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔‘‘یو این ایس کے مطابق وزیر اعظم نے عوام کو مختلف سرکاری محکموں کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ گرمی کی شدت سے بچاؤ کے لیے ان رہنما اصولوں پر عمل کرنا بے حد ضروری ہے۔واضح رہے کہ وزیر اعظم مودی نے گزشتہ ہفتے بھی شہریوں سے اپیل کی تھی کہ وہ شدید گرمی کے دوران زیادہ سے زیادہ احتیاط برتیں کیونکہ موجودہ موسمی حالات صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔اپنے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے گرمیوں کے موسم میں آم کی اہمیت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جہاں اس موسم میں آم کا تذکرہ نہ ہوتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے ہر خطے کا اپنا منفرد آم، اپنی خوشبو اور اپنا ذائقہ ہے۔انہوں نے مہاراشٹر کے مشہور ہاپس (الفانسو) اور گجرات کے کیسر آم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ آم آم رس کی جان سمجھے جاتے ہیں۔ اسی طرح اتر پردیش کے دسہری اور کاشی کے لنگڑا آم بھی اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ بہار کے آم اپنی خوشبو کے باعث دور دور تک پہچانے جاتے ہیں جبکہ چوسا اور مالدہ جیسی اقسام سے بھی لوگوں کی بے شمار یادیں وابستہ ہیں۔انہوں نے جنوبی بھارت کی مشہور اقسام بنگنا پلی، طوطا پوری، نیلم اور ملگوا کا ذکر بھی کیا، جبکہ مغربی بنگال کے ہِمساگر اور اڈیشہ و آندھرا پردیش کے سورن ریکھا آموں کو بھی خصوصی اہمیت دی۔وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بھارت میں جگہ بدلنے کے ساتھ آم کی شکل، رنگ، ذائقہ اور خوشبو بھی بدل جاتی ہے، جو ملک کے ثقافتی اور زرعی تنوع کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ بھارتی آم اب دیہی باغات سے نکل کر عالمی منڈیوں تک اپنی پہنچ بنا رہے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر بھی مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آم نہ صرف بھارت کی زرعی شناخت کا حصہ ہیں بلکہ ملک کے باغبانی شعبے اور برآمدی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔










