sucide

شدید گرمی سے نجات پانے کیلئے نوجوانوں خاص طور پر کم عمر بچوں کی جانب سے ندی نالوں اور دریائوں کا رخ

ابھی تک 35افراد مختلف مقامات پر پانی میں ڈوب کر اپنی جان گنوا بیٹھے ، ماہرین میں تشویش کی لہر

سرینگر// شدید گرمی کی لہر سے خود کو بچانے کیلئے نوجوانوں خاص طور پر کم عمر بچوں کی جانب سے ندی نالوں اور دریائوں کا رخ کرنے کے دوران غٖرقابی کے واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے اور اس بات کا انکشاف ہو گیا ہے کہ امسال ابھی تک 35افراد ڈوب کر لقمہ اجل بن گئے ہیں جو گزشتہ سا ل کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے ۔ ادھر ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس معاملے کی جانب توجہ دینے کے ضرورت ہے تب ہی ایسے واقعات کو روکا جا سکتا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق وادی کشمیر میں جہاں ان دنوں شدید گرمی کی لہر جاری ہے اور جولائی کے اوئل میں درجہ حرارت 36ڈگری کو چھو گیا ہے وہیں گرمی سے نجات پانے کیلئے نوجوانوں خا ص طور پر کم عمر بچوں کی جانب سے دریائوں اور ندی نالوں کا رخ کیا جاتا ہے تاہم وہ اب کشمیر میں کافی جان لیوا ثابت ہو رہا ہے ۔ وادی کشمیر میں امسال نہانے کے دوران غرقابی کے کافی واقعات رونما ہو چکے ہیں اور جنوری سے جولائی 2024 تک 35 واقعات رپورٹ ہوئے۔ یہ پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں بہت زیادہ اضافہ ہے، جس میں ڈوبنے کے 22 واقعات ہوئے تھے۔ اعداد و شمار کے مطابق، اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فورس نے اس سال اب تک 73 بچائو آپریشن کیے ہیں۔سب سے زیادہ واقعات جون 2024 میں پیش آئے، صرف اسی مہینے میں 11 ڈوبنے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ یہ 2023 کے پورے سال کے بالکل برعکس ہے جس میں ڈوبنے کے کل 48 واقعات اور 92 بچائو آپریشن ریکارڈ کیے گئے۔ادھر ماہرین نے غر قابی کے واقعات میں حالیہ اضافہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گرم موسم کی بڑھتی ہوئی تعدد سے منسوب ہے۔ چلچلاتی ہوئی درجہ حرارت نے بہت سے لوگوں کو مقامی آبی ذخائر میں نہا کر راحت حاصل کرنے پر مجبور کیا ہے، یہ رجحان کئی مواقع پر جان لیوا ثابت ہوا ہے۔حکام کے مطابق پانی کے ذخائر سے لاشوں کو نکالنے کیلئے امدادی کارروائیاں جاری ہیں جہاں نہاتے ہوئے لوگ ڈوب گئے۔ تازہ ترین افسوسناک واقعہ سرینگر میں پیش آیا جہاں حبہ کدل کے مقام پر ایک 11 سالہ لڑکا دریائے جہلم میں ٹھنڈا ہونے کی کوشش میں ڈوب گیا۔ اس کی لاش ابھی تک برآمد نہیں ہوئی ہے۔