متاثرہ مالکان باغات اورکسانوں کیلئے ڈائریکٹر جنرل محکمہ باغبانی کشمیرنے جاری کی ایڈوائزری
سری نگر//مارچ ،اپریل اوررواں ماہ ہونے والی ژالہ باری سے کشمیر کے اطراف واکناف میں کھڑی فصلوں کیساتھ ساتھ میوہ باغات کوبھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے اورحتیٰ کہ کچھ علاقوں میں سیب،شاہ دانہ(گلاس)،اخروٹ اورناشپاتی کی 70فیصد پیداوار زمین بوس ہوگئی ،جسکے نتیجے میں متاثرہ مالکان باغات کی اُمیدوں پرپانی پھرگیاہے ،اوروہ حکومت سے امداد یامالی معاونت کی اُمید لگائے بیٹھے ہیں ۔جے کے این ایس کے مطابق ڈائریکٹر جنرل محکمہ باغبانی کشمیر اعجاز احمد بٹ نے ژالہ باری سے متاثرہ باغات کے مالکان اورکسانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ درختوں پرموجود پھلوں بشمول سیب ،اخروٹ ،شاہ دانہ اورناشپاتی کومختلف بیماریوں سے بچانے کیلئے پھپھوندی کش ادویات کاچھڑکائو کریں ۔اس دوران متعلقہ ڈائریکٹر جنرل نے سنیچر کے روز سری نگر کے مضافات میں واقع ہارون اور فقیر گجری کادورہ کرکے یہاں ژالہ باری سے شاہ دانہ ،سیب اوراخروٹ کی پیداوارکوپہنچے کاجائزہ لیا۔کشمیر کے کچھ حصوں میں جمعہ کو ہونے والیژالہ باری نے پھلوں کے درختوں کو بھاری نقصان پہنچایا جبکہ سیب،شاہ دانہ(گلاس)،اخروٹ اورناشپاتی کی 70فیصد پیداوار زمین بوس ہوگئی ہے ۔محکمہ باغبانی کشمیر کے ابتدائی جائزے کے مطابق، ژالہ باری نے سری نگر کے مضافات میں واقع ہارون اور فقیر گجری میں واقع چیری(شاہ دانہ)، اخروٹ اور سیب کے باغات کو 70فیصد نقصان پہنچایا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل باغبانی اعجاز احمد بٹ نے بتایاکہ فقیر گجری، دھرا اور ہارون میں جمعہ کے روز ژالہ باری تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی، جس سے چیری، اخروٹ، سیب، سرسوں کا تیل، سبزیوں اور دالوں کی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں ۔ ڈائریکٹر جنرل محکمہ باغبانی کشمیر، جنہوں نے صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے سنیچر کے روز ہاروان اور ملحقہ علاقوں کا دورہ کیا، کہا کہ انہوںنے ابھی کیلئے متاثرہ کسانوں کو فی کس10ہزارروپے ادا کئے ہیں۔ڈائریکٹر جنرل موصوف کاکہناتھاکہ میں متاثرہ مالکان باغات اورکسانوںکوراحت پہنچانے کیلئے اپنی استطاعت کے مطابق مزید کچھ کروں گا۔ اس سال کے کسان کریڈٹ لون کو معاف کرنے کے کسانوں کے مطالبے پر، ڈی جی محکمہ باغبانی نے کہاکہ کسی فیصلے تک پہنچنے سے پہلے اس معاملے پر دیگر متعلقہ حکام سے بات کی جائے گی۔باغات کو پہنچنے والے نقصان کو روکنے کے لئے ژالہ باری سے قبل احتیاطی تدابیر کے بارے میں پوچھے جانے پر، ڈی جی ہارٹیکلچر نے کہا کہ محکمہ حفاظتی جال خریدنے کا منصوبہ بنا رہا ہے جو پھلوں کے درختوں پر نصب کیے جاسکتے ہیں۔ دریں اثنا، محکمہ باغبانی کشمیر نے ژالہ باری متاثرہ کاشتکاروں یعنی مالکان باغات اورکسانوں کیلئے ایک ایڈوائزری بھی جاری کی ہے، جس میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ تباہ شدہ باغات میں پھلوں کے درختوں پر پھپھوندی کش ادویات کا چھڑکائو کریں۔ایڈوائزری میں کہاگیاہے کہ پھپھوندی کش ادویات کاچھڑکائو کرنے کے تین روز بعدکسان وکاشتکار اپنے پھل دار درختوں پر یوریا کاچھڑکائو بھی کریں ۔ساتھ ہی مالکان باغات سے کہاگیاہے کہ ژالہ باری سے گرنے والے میوہ دانوں اورپتوں کوفوری طورپر باغات سے ہٹایاجائے۔










