سری نگر / /سیکرٹری وزارتِ صحت و خاندانی بہبود (ایم او ایچ ایف ڈبلیو) اَپوروا چندرا اور لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر راجیو رائے بھٹناگر نےنیشنل ہیلتھ مشن (این ایچ ایم) کی دوسری قومی کانفرنس سے خطاب کیا۔اِس کانفرنس کا اِنعقادمرکزی وزارتِ صحت نے نیشنل ہیلتھ مشن جموں و کشمیر کے اشتراک سے کیا تھا تاکہ کئی ریاستوں اوریوٹیزکی صحت نگہداشت کے اہم اَقدامات اور حکمت عملی پر غورو خوض کیا جاسکے۔ کانفرنس میں کئی ریاستوں اوریوٹیز کے این ایچ ایم کے مشن ڈائریکٹر، نامور ہیلتھ کیئرکے پیشہ ور اَفراد، پالیسی سازوں اور ملک بھر کے شراکت داروں نے شرکت کی۔سیکرٹری وزارتِ صحت نے اِپنے اِفتتاحی خطاب میں اس بات پر روشنی ڈالی کہ ملک کی مجموعی ترقی کے لئے صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور ہیلتھ کیئرکے جامع نظام کو فروغ دینا ضروری ہے۔ اُنہوں نے ملک بھر میں طبی بنیادی ڈھانچے کو اَپ گریڈ کرنے کے مشترکہ مقصد کو حاصل کرنے کے لئے سرکاری صحت اِداروں اور سول سوسائٹی آرگنائزیشنوں کے مابین تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔اُنہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں طبی بنیادی ڈھانچے کو اَپ گریڈ کیا گیا ہے اور جموں و کشمیر میں کچھ پبلک ہیلتھ سینٹرچوبیس گھنٹے کام کر رہے ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر راجیو رائے بھٹناگر نے اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے لئے قومی شہرت کی اِس کانفرنس کی میزبانی کرنا اعزاز کی بات ہے ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ یہ کانفرنس شراکت داروںکو ہیلتھ کیئر نظام سے متعلق اہم مسائل پر تبادلہ خیال اور غوروخوض کرنے کے لئے ایک منفرد پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔اُنہوں نے کہا کہ محکمہ صحت و خاندانی بہبود کی فعال مدد سے جموں و کشمیر ،صحت خدمات میں مکمل تبدیلی کا مشاہدہ کر رہا ہے۔مشیر موصوف نے کہا کہ یہ کانفرنس چیلنجوںپر قابو پانے اور ایک صحت مند قوم کی تعمیر کے لئے ہیلتھ کیئر کمیونٹی کے اِجتماعی عزم کا ثبوت ہے۔اُنہوں نے اَپنے خطاب میں اس عزم کا اِظہار کیا کہ اس کانفرنس کے مباحثوں اور بات چیت کو ٹھوس اَقدامات میں تبدیل کیا جائے گا جس سے شہریوں کی صحت اور فلاح و بہبود پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ایڈیشنل سیکرٹری اور مشن ڈائرکٹر ارادھنا پٹنائک نے اَپنے خطاب میں کہا کہ این ایچ ایم ملک بھر میں بالخصوص دُور دراز اور پسماندہ علاقوں میں ہیلتھ کیئرتک رَسائی اور معیار کو آگے بڑھا رہا ہے ۔ اُنہوں نے ہیلتھ کیئر کے بڑھتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے اِختراعی طریقوں ، بہتر کمیونٹی کی شمولیت اور مضبوط شراکت داری کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے شرکأ کے درمیان بصیرت افروز تبادلہ خیال، معلومات کے تبادلے اور بہترین طریقوں کے تبادلے کے لئے ایک پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔ اُنہوں نے اِس اُمید کا اِظہار کیا کہ اِس کانفرنس کے نتائج اورغوروخوض ایک صحت مند قوم کے مشترکہ مقصد کے حصول میں نتیجہ خیز ثابت ہوں گے۔ سیکرٹری صحت و طبی تعلیم ڈاکٹر سیّد عابد رشید شاہ نے اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کا محکمہ صحت ایچ او ایف ڈبلیو کے فعال نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔اُنہوں نے کہاکہ یہ کانفرنس جموں و کشمیر کے لئے صحت خدمات سے متعلق مختلف اقدامات کے سلسلے میں پڑوسی ریاستوں اور یوٹیز سے سیکھنے کے لئے ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ دورانِ کانفرنس متعدد تکنیکی سیشن منعقد کئے گئے جن کے دوران شرکأ اور مقررین نے اِنڈین پبلک ہیلتھ سٹینڈرڈز، جامع صحت نگہداشت کو حقیقت کا روپ دینے ، بچوں کی صحت ، متعدی اَمراض کے انتظام ، ہیلتھ کیئر کی مالی اعانت اور ڈیجیٹل صحت کے اَقدامات جیسے وسیع موضوعات پر معلوماتی تبادلہ خیال کیا۔اِس موقعہ پر پرنسپل سیکرٹری ہیلتھ اینڈ فیملی ویلفیئرحکومت پنجاب اجوئے شرما، سیکرٹری صحت و خاندانی بہبود حکومت ہماچل پردیش سی پالراسو، سیکرٹری صحت و خاندانی بہبود چندی گڑھ یوٹی اَجے چگتی، اِی ڈِی نیشنل ہیلتھ سسٹم ریسورس سینٹر (این ایچ ایس آر سی) میجر جنرل اَتل کوتوال،مشن ڈائریکٹر این ایچ ایم جموں و کشمیر ناظم ضیاء خان، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر، میڈیکل کالجوں کے پرنسپل، دیگر اَفسران اور مختلف ریاستوں اوریوٹیز کے مندوبین بھی موجود تھے۔










