bupinder kumar

سیکرٹری صحت و طبی تعلیم نے یونیورسل سکریننگ ،اِنتظام،غیر متعدی اَمراض اورکامن کینسر کی مسلسل نگہداشت کا جائزہ لیا

جموں//سیکرٹری صحت و طبی تعلیم بھوپندر کمار نے سول سیکرٹریٹ میں غیر متعدی اَمراض اور کامن کینسروں کی یونیورسل سکریننگ ، انتظام او رمسلسل نگہداشت کا جائزہ لینے کے لئے ایک میٹنگ کی صدارت کی۔سٹیٹ نوڈل آفیسر این ایچ ایم جے اینڈ کے ڈاکٹر محمد شفیع کوکا نے ایک تفصیلی پرزنٹیشن پیش کی جس میں غیر متعدی اَمراض ،سکریننگ ، اِنتظام اور نگہداشت کے تسلسل پر روشنی ڈالی ۔ پرزنٹیشن کی اہم جھلکیاں یہ تھیں کہ جموںوکشمیر یوٹی نے این سی ڈی پورٹل میں 30 برس یا اس سے زیادہ عمر کے 45.36 لاکھ اَفراد کا اِندراج کیا ہے ۔ ان میں سے 41.48 لاکھ سے زیادہ اَفراد کاغیر متعدی اَمراض کے خطرے والے عوامل کے لئے جائزہ لیا گیا ہے۔اِس کے علاوہ ان میں سے کل 30.42 لاکھ اَفراد کی جانچ کی گئی ہے ۔ اب تک 1.75 لاکھ غیر متعدی اَمراض کے علاج کے تحت رکھے گئے ہیں جن کی پیروی کی جائے گی تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ ان کی بیماری کی حالت قابو میں ہے ۔ اس کے بعد غیر متعدی اَمراض سکریننگ کی ضلع وار صورتحال اور نگہداشت کا تسلسل شامل ہے ۔ میٹنگ میںہائی بلڈ پریشر ، ذیابیطس اور کامن کینسر کے لئے یونیورسل سکریننگ ، تشخیص اور فالو اَپ میں اہم چیلنجوں پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔سیکرٹری نے یونیورسل سکریننگ مینجمنٹ،غیر متعدی اَمراض اور کامن کینسر کی مسلسل نگہداشت کی ضرورت پر زور دیا بالخصوص 30سے زائد آبادی میں جو اس کے لئے اِنتہائی خطرے سے دوچار ہیں۔ اُنہوں نے سکریننگ کے معیار کو بہتر بنانے ، این سی ڈیز والے اَفراد کی شناخت اور اُنہیں کنٹرول میں رکھنے کے لئے ماہرین ، میڈیکل اَفسران اور فرنٹ ورکروں کے درمیان روابط قائم کرنے سے ٹیم پر مبنی دیکھ دیکھ کے طریقہ کا ر پر زور دیا۔نیشنل ہیلتھ سروے کے مطابق زیر علاج ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس کے معاملات کی تعداد کے حوالے سے ضلع وار سٹیٹس کو بمشکل زیر بحث لایا گیا اور 31؍ مارچ 2023ء تک اہداف کی بروقت تکمیل کے لئے ہدایات جاری کی گئیں۔سیکرٹری موصوف نے اَفسران کو ہائی بلد پریشر ، ذیابیطس اور دیگر این سی ڈی کے لئے شناخت کئے گئے لوگوں کی مسلسل نگہداشت کے لئے سکریننگ کے اِنتظام اور علاج میں اِضافہ کرنے کی ہدایت دی ۔مزید متعلقہ اَفسران کو ہدایت دی گئی کہ وہ نجی ہسپتالوں میں زیر علاج غیر متعدی اَمراض مریضوں کے اِندراج اور ان کی پیروی کے لئے طریقہ کا ر وضع کریں۔اُنہوں نے ڈائریکٹران ہیلتھ سروسز جموںوکشمیر اور چیف میڈیکل اَفسران سے کہا کہ وہ ہفتہ وار بنیادوں پر تمام صحت سہولیات میں سکریننگ ٹریٹمنٹ اور اَدویات اور تشخیصی اَدویات کی دستیابی کا باقاعدگی سے جائزہ لیں۔سیکرٹری موصوف نے سربراہان سے کہا کہ وہ ٹیلی کنسلٹیشن خدمات کے لئے طبی عملے کی دستیابی کو یقینی بنائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہیلتھ اور ویلنس سینٹروں بشمول ایم ایل پی ایچز ،اے ان ایمز ( ریگولر / این ایچ ایم) پر تعینات عملے کو کسی بھی حالت میں رات کی ڈیوٹی پر نہ لگایا جائے اورجی پی ایس سے بائیو میٹرک حاضری کی نگرانی کو یقینی بنانے کے لئے ہدایات جاری کی گئیں۔ اس کے علاوہ میٹنگ میں اے بی ایچ اے آئی ڈیز کی جنریشن پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔میٹنگ میں مشن ڈائریکٹر این ایچ ایم جے اینڈ کے آیوشی سوڈان ، گورنمنٹ میڈیکل کالجوں کے پرنسپلوں ، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز جموں / کشمیر ، جوائنٹ ڈائریکٹر پلاننگ صحت و طبی تعلیم ، محکمہ ایچ اینڈ ایم ای کے دیگر اَفسران نے شرکت کی جبکہ ڈبلیو ایچ او کے نمائندوں اور تمام سی ایم اوز اور بی ایم اوز نے بذریعہ آن لائن میٹنگ میں حصہ لیا۔