جموں//سیکرٹری صحت و طبی تعلیم بھوپندر کمار کی صدارت میں سول سیکرٹریٹ میں نیشنل بورڈ آف ایگزامینیشنز ( این بی اِی ) کے تحت جموںوکشمیرمیں ڈپلومیٹ آف نیشنل بورڈ( ڈی این بی ) کورسزکی ایک جائزہ میٹنگ منعقد ہوئی ۔سیکرٹری نے ڈی این بی پروگرام سے وابستہ تمام اَفسران کی تعریف کی جنہوں نے سیشن 2022ء میں 250ڈی این بی نشستیں حاصل کرنے پر جموںوکشمیر یوٹی کا نام روشن کیااور چیف میڈیکل اَفسران کو ڈسٹرکٹ ہسپتال اور جی ایم سیز میں ڈی این بی نشستوں کی اَچھی تعداد کو حاصل کرنے میں ان کی کوششوں اور انہیں اَگلے تعلیمی سیشن کے لئے نشستوں میں اِضافہ کرنے کا مشورہ دیا۔جموںوکشمیر یوٹی نوڈل آفیسر ڈین این بی پروگرام ڈاکٹر جتندر مہتا نے ایک تفصیلی اِدارہ وار پرزنٹیشن پیش کی اور جموںوکشمیر یوٹی میں ڈی این بی نشستوں کو مزید بڑھانے کے لئے ایکشن پلان پر تبادلہ خیال کیا گیا۔میٹنگ 2020ء کے دوران بتایا گیا کہ جموںوکشمیر کے لئے 21نشستوں کی منظور ی دی گئی تھی جس میں 2021ء میں مزید 145نشستوں کا اِضافہ ہوا جس میں 107 براڈ سپیشلٹی اور 38 سپر سپیشلٹی شامل ہیں۔ جموںوکشمیر کے مختلف اِداروں میںمنظور شدہ نشستوں میں سے 2020ء کے سیشن میں 11 طلباء اور 2021ء کے سیشن میں 77طلباء کو داخل کیا گیا ۔ جموںوکشمیر نے 250 ڈی این بی نشستوں کے لئے منظوری حاصل کی ہے جس میں 205براڈ سپیشلٹی اور 45 سپر سپیشلٹی نشستیں ہیں جن میں سے اَب تک 152 اُمید واروں نے شمولیت اِختیار کی ہے ۔ اِس کے علاوہ سپر سپیشلٹی کے لئے آل اِنڈیا کوٹا کی نشستوں کی کونسلنگ اَبھی بھی جاری ہے ۔ جموںوکشمیر میں ڈی این بی کورسوں کے آغاز کے بعد پورے اِنڈیا سے تقریباً 200 اُمید واروں نے جموں وکشمیر کے اِداروں میں شمولیت اِختیار کی ہے۔کیکالپ جیسے معیاری سرٹیفکیشن پروگراموں کے ذریعے صحت عامہ کی فراہمی کے معیار کو بڑھانے کے لئے ہدایات جاری کی گئیں۔ اِس بات پر مزید زور دیا گیا کہ ڈی این بی پروگرام کی عمل آوری کے نتائج جلد نظر آئیں گے کیوں کہ وہ ماہرین کی کمی او رعلاقوں میں معیاری دیکھ دیکھ فراہم کرنے کے اہم خدشات کو دور کرے گا۔میٹنگ میں ڈائریکٹر سکمز صورہ ، گورنمنٹ میڈیکل کالجوں کے پرنسپلوں ، مشن ڈائریکٹر نیشنل ہیلتھ مشن ، ڈائریکٹر فائنانس صحت و طبی تعلیم ، پرنسپل سکمز بمنہ ، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز جموں / کشمیر ، ڈپٹی ڈائریکٹر پلاننگ ، تمام چیف میڈیکل اَفسران ، میڈیکل سپر اِنٹنڈنٹ اور ڈی این بی نوڈل اَفسران سمیت محکمہ دیگر اَفسران نے شرکت کی۔










