سری نگر//سیکرٹری دیہی ترقی و پنچایتی راج محکمہ ڈاکٹر شاہد اِقبال چودھری نے آج جموں و کشمیر انسٹی چیوٹ آف مینجمنٹ، پبلک ایڈمنسٹریشن اینڈ رورل ڈیولپمنٹ (جے کے آئی ایم پی آر ڈِی) میں سوچھ بھارت مشن گرامین (ایس بی ایم۔جی) مرحلہ دوم کی عمل آوری پر ماسٹر ٹرینروں کے لئے دو روزہ ریفریشر ٹریننگ پروگرام کا اِفتتاح کیا۔ورکشاپ میں ڈائریکٹر جنرل رورل سینی ٹیشن انو ملہوترا، سپراِنٹنڈنٹ اِنجینئر آر اِی ڈبلیو کشمیر اِنجینئر عامر علی، ڈپٹی ڈائریکٹر رورل سینی ٹیشن ثنا خان، ماسٹر ٹرینروإ اور دیگر افسروں نے شرکت کی۔پروگرام کا مقصد اِستفساری سیشنوں، مباحثوں اور عملی مشقوں کے ذریعے مؤثر ایس بی ایم۔جی مرحلہ دوم کی عمل آوری کے لئے ٹرینروں کی مہارتوں اور علم میں اضافہ کرنا ہے۔ڈاکٹر شاہد اِقبال چودھری نے ایک اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر میں دیرپا صفائی کے حصول کے لئے طرز ِعمل میں تبدیلی کی اہمیت پر زور دیا۔اُنہوں نے بنیادی ڈھانچے کی ترقی سے آگے بڑھنے اور صفائی ستھرائی کے بارے میں لوگوں کے رویوں کو تبدیل کرنے پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت کواُجاگر کیا۔اُنہوںنے اس بات پر بھی زور دیا کہ بیت الخلأ اورعام سہولیات کی تعمیر کی گئی ہے لیکن کھلے میں رفع حاجت سے پاک (او ڈی ایف) کا درجہ حاصل کرنے کے لئے ذہنیت میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔اُنہوں نے کامیاب عمل آوری کے لئے تیم اہم اجزأ مناسب سرکاری اِنفراسٹرکچر ، اچھی تربیت یافتہ محکمانہ عملہ او رکمیونٹی کی فعال شرکت کا خاکہ پیش کیا۔ڈاکٹر شاہد اِقبال چودھری نے دیرپا صفائی ستھرائی کے حصول کے لئے حکومت، تربیت یافتہ عملہ اور کمیونٹی کی شرکت پر مشتمل کثیرالجہتی نقطہ نظر کی ضرورت پر زور دیا۔اُنہوں نے شرکأ پر زور دیا کہ وہ بنیادی ڈھانچے کی خامیوں اور صلاحیت سازی کی ضروریات کی نشاندہی پر توجہ مرکوز کریں، مؤثر تربیت اور کمیونٹی کی شمولیت کی اہمیت پر زور دیا۔سیکرٹری موصوف نے قلیل مدتی کاسمیٹک کوششوں کے بجائے طویل مدتی اور مؤثر کام کی اہمیت پر زور دیا۔اُنہوں نے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لئے حکومتی اہلکاروں او رکمیونٹی کے درمیان باہمی تعاون پر زور دیا۔ڈائرکٹر جنرل رورل سینی ٹیشن انو ملہوترا نے سوچھ بھارت مشن۔ جی کے اہداف کو حاصل کرنے میںجامع تربیت کے اہم کردار پر زور دیا۔اُنہوں نے جموں و کشمیر میں ہونے والی پیش رفت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جموںوکشمیر نے او ڈی ایف (کھلے میں رفع حاجت سے پاک) ماڈل پلس کا درجہ حاصل کیا ہے۔ تاہم انو ملہوترا نے موجودہ خامیوں کی نشاندہی کی جنہیں دیرپایت کو یقینی بنانے کے لئے دور کرنے کی ضرورت ہے۔انو ملہوترا نے کہا کہ یہ ریفریشر کورس صرف سیکھنے کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ آپ نے جو کچھ سیکھو گے وہ زمینی سطح پرعملانے کے بارے میں ہے۔اُنہوں نے سوچھ بھارت پروگرام کو دیرپا بنانے کے لئے درکار اَقدامات کا خاکہ پیش کیا ۔اُنہوںشرکأسے کہا کہ وہ اپنے ویسٹ پروسسنگ اور کمپوسٹنگ ماڈلز سے سیکھنے کے لئے بال تل بیس کیمپ جیسے کامیاب پروجیکٹوں کا دورہ کریں۔اُنہوں نے تربیت حاصل کرنے والوں پر زور دیا کہ وہ تربیت میں پوری دلچسپی لیں، رول ماڈل بنیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ خرچ ہونے والی آمدنی کا مؤثر استعمال ہو۔پریموو ممبئی سے تعلق رکھنے والے ایک ریسورس پرسن لکشمی کانت شندے نے شرکأ کے تعارف، شرکأ کی توقعات اور تربیت کے جائزہ پر تفصیلی پرزنٹیشن دی جس میں مقاصد، زمینی قواعد، اور تربیت سے پہلے تشخیص کے سوالنامے شامل ہیں اور دیگر ٹرینروں نے بھی مختلف موضوعات پر زنٹیشنز دیں۔پروگرام میں اے سی پی سری نگر الطاف حسین،امپارڈ کی فیکلٹی ممبر ڈاکٹر شفیعہ وانی اور دیگرمتعلقین نے بھی شرکت کی۔










