جموں وکشمیر کا کلچرل ہیرٹیج اس کا سب سے بڑا اثاثہ ہے اور اسے بحال کرنے کی ضرورت ہے ۔ڈاکٹر سیّد عابد رشید شاہ
جموں//تمام ورثے کی جگہوں اور دیگر محفوظ یاد گاروں کی تزئین و آرائش اور مشن موڈ پر نئے سرے سے تبدیلی کی جانی چاہیے اور اِس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ ن کی جمالیات اور تقدس کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔اِن باتوں کا اِظہار سیکرٹری ثقافت ڈاکٹر سیّد عابد رشید شاہ نے آج سول سیکرٹریٹ میں اَپنے ماتحت مختلف محکموں کے کاموں کا جائزہ لینے کے لئے منعقدہ میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔سیکرٹری ثقافت نے کہا کہ حکومت جموںوکشمیر ثقافتی احیائے نوکے لئے بڑے پیمانے پر محکمہ ثقافت کو بحال کرنے کے لئے پُر عزم ہے۔اُنہوں نے کشمیر میں ابھینو تھیٹر کلا کیندر جموں اور ٹیگور ہال کو فروغ دینے، انہیں مناسب پہچان دینے اور چلانے پر بہت زور دیا ۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ مقامات جموںوکشمیر کے ثقافتی مقام کے اعصابی مراکز رہے ہیں اور انہیں سال بھر ثقافتی سرگریوں سے بھرپور ہونا چاہیے۔اُنہوں نے اَفسران پر زور دیا کہ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے مقامی لوگوں اور سیاحوں کو ہمارے ورثے سے جوڑیں۔ اُنہوں نے کہا کہ محکمے ہمارے مشترکہ خزانوں کو محفوظ رکھنے کے لئے اَچھی طرح کام کر رہے ہیں اور اسے عوام کے ساتھ شیئر کیا جانا چاہیے تاکہ ان کا تجسس اور دِلچسپی پیدا ہو۔دورانِ میٹنگ ڈاکٹر سیّد عابد رشید شاہ نے محکمہ کو متحرک بنانے اور نوجوانوں کو مزید مربوط کرنے کے لئے حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔سیکرٹری موصوف نے جموںوکشمیر اکیڈمی آف آرٹس ، کلچر اینڈ لنگویجز کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جموںوکشمیر میں ہمارے پاس بھرپور اور متحرک ثقافتیں ہیں ۔ انہیں نئی زندگی دینے کے لئے تقریبات کا اِنعقاد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نوجوانوں کو اِس کی طرف راغب کیا جاسکے۔اُنہوں نے متعلقہ اَفسران کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ روایتی آرٹ فارمس پروگرام میں کلچرل اپرنٹس شپ شروع کرنے پر غور کر کے ایک فزیبلٹی رِپورٹ پیش کریں۔اُنہوں نے واضح کیا کہ لائبریریوں کے محکمہ کو چاہیے کہ وہ جموںوکشمیر کے دُور دراز علاقوں کے نوجوانوں اور طلباء کے لئے اَپنی خدمات کو ترجیح دے اور سرکاری لائبریریوں کی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو تیز کرنے کے لئے ضروری ہدایات دیں۔اُنہیں جانکاری دی گئی کہ حکومت نے بحالی کے لئے جموںوکشمیر یوٹی میں 35یاد گاروں اور مقامات کی نشاندہی کی ہے ۔اُنہوں نے پاور پوائنٹ پرزنٹیشن کے ذریعے ان سائٹس میں سے ہر ایک کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا۔اُنہوں نے ثقافتی سرگرمیوں میں عوامی دِلچسپی پیدا کرنے اور فروغ دینے کے لئے پورے اِنڈیا کے دیگر اہم اِداروں اور دیگر اِداروں کے ساتھ اشتراک کرنے کے خیال کی بھی حمایت کی۔سیکرٹری موصوف نے’ آزادی کا اَمرت مہااُتسو‘ سرگرمیوں کے تحت ہونے والی پیش رفت کو نوٹ کیا جبکہ محکموں کے اپریشنل اور تنظیمی اَمور پر ان سے تبادلہ خیال کیا گیا۔میٹنگ میں ہیومن ریسورس مینجمنٹ اور پالیسیوں ، کلچر سینٹروں کے قیام اور ریکروٹمنٹ پالیسی کے مسودے سے متعلقہ اَمور پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔اُنہوں نے اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ آنے والے مہینوں میں منعقد کی جانے والی تشہیری سرگرمیوں کا کیلنڈر بنائیں۔اُنہوں نے محکمہ ہیومن ریسورس کے لئے مختلف اَپ سکلنگ کورسز کی نشاندہی اور ان کی فراہمی پر بھی زور دیا۔محکموں میں محکمہ آرکائیوز ، آرکیولوجی اینڈ میوزیم ،لائبریریوں اور تحقیق شعبہ ،جموںوکشمیر اکیڈمی آف آرٹس کلچر اینڈ لنگویجز اور کلاسینٹر جموںشامل ہیں۔میٹنگ میں سپیشل سیکرٹری ترشالا کماری ، ڈائریکٹر لائبریریز اینڈ ریسرچ ایم رفیع ، ایڈیشنل سیکرٹری سنجیورانا ، ایڈیشنل سیکرٹری وشوا جیت ، ڈپٹی سیکرٹری ثقافت عبدالقیوم ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر سنگیتا شرمانے شرکت کی۔ ڈپٹی ڈائریکٹر آرکائیوز مشتاق احمد بیگ اور اسسٹنٹ لأ آفیسر جہانگیر نے بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ میٹنگ میں حصہ لیا۔










