اہم مقامات پر مناسب طبی ٹیموں، ایمرجنسی رسپانس یونٹوں اور ضروری اَدویات کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت
سری نگر//وزیر برائے صحت و طبی تعلیم، سماجی بہبود اور تعلیم محکمہ جات سکینہ اِیتو نے آج آنے والے مقدس مہینے محرم الحرام کے لئے طبی سہولیات کے اِنتظامات کا جائزہ لینے اور انہیں مزید مؤثر بنانے کے لئے ایک جامع جائزہ میٹنگ کی صدارت کی۔دورانِ میٹنگ وزیرموصوفہ نے محرم کے جلوسوں اور مجالس میں شرکت کرنے والے عزاداروں کے لئے بلاتعطل طبی خدمات کو یقینی بنانے کے لئے محکمہ صحت کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔میٹنگ میں ممبر قانون ساز اسمبلی اوڑی ڈاکٹر سجاد شفیع، ممبر اسمبلی خانصاحب سیف الدین بٹ، رُکن اسمبلی بیروہ ڈاکٹر شفیع احمد، ممبر اسمبلی زڈی بل تنویر علی صادق، رُکن اسمبلی لال چوک شیخ احسان پردیسی، منیجنگ ڈائریکٹر این ایچ ایم، منیجنگ ڈائریکٹر جے کے ایم ایس سی ایل، ڈائریکٹر سکمز، تمام گورنمنٹ میڈیکل کالجوں کے پرنسپلوں، ڈائریکٹر ہیلتھ کشمیر، ڈائریکٹر آئی ایس ایم، چیف میڈیکل اَفسران اور محکمہ صحت کے دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔وزیر صحت نے میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے تمام متعین اِجتماعی مقامات اور جلوس کے راستوں پر فوری اور مؤثر طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے مربوط اور فعال حکمت عملی اَپنانے پر زور دیا۔اُنہوں نے سکمز، جی وِی سی ہسپتال، ایس ایم ایچ ایس اور دیگر شہری ہسپتالوں کے منتظمین کو ہدایت دی کہ محرم الحرام کے دوران عزاداروں کی سہولیت کے لئے طبی کیمپ قائم کئے جائیں۔وزیر موصوفہ نے افسران کو ہدایت دی کہ منتخب مقامات پر چوبیس گھنٹے فعال طبی کیمپ قائم کئے جائیں اور وہاں ماہر ڈاکٹروں، نیم طبی عملے اور جان بچانے والی اَدویات کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔ اُنہوں نے کسی بھی ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ہسپتالوں میں ایمرجنسی تیاریوں کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔اُنہوںنے کہاکہ ایمبولینس سروسز کو ہر وقت الرٹ رکھا جائے تاکہ مریضوں کو بروقت طبی مراکز تک منتقل کیا جا سکے۔ اُنہوں نے انہیں یہ بھی ہدایت دی کہ وہ لوگوں کو مقررہ جگہوں پر ایمبولینسوں کی دستیابی کے بارے میں پہلے سے آگاہ کریں۔سکینہ ایتو نے متعلقہ افسران کو اہم مقامات پر مناسب طبی ٹیموں، ایمرجنسی رسپانس یونٹوں اور ضروری ادویات کی تعیناتی کو یقینی بنانے کی ہدایت دِی۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ جلوسوں کے اہم راستوں پر واقع تمام طبی ادارے مکمل طور پر تیار اور ضروری سہولیات سے آراستہ رہیں تاکہ کسی بھی طبی ایمرجنسی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔اُنہوں نے عوامی سہولیت اورحفاظت کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ ضلعی اِنتظامیہ اور دیگر متعلقہ محکموں کے ساتھ قریبی تال میل برقرار رکھیںتاکہ طبی اِنتظامات پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ اُنہوں نے محرم الحرام کے پورے مہینے میں ایمبولینس اورایمرجنسی طبی خدمات کی بلا تعطل دستیابی پر بھی زور دیا۔وزیرموصوفہ نے مزید ہدایت دی کہ تمام بڑے طبی اداروں میں ضروری ادویات، خون کی فراہمی اورایمرجنسی طبی آلات کی وافر مقدار موجود ہو۔ اُنہوں نے حکام کو اِنتظامات کی باقاعدہ نگرانی کرنے اور کسی بھی کمی کو پیشگی دور کرنے کی تاکید کی۔اُنہوں نے محرم الحرام کے پُرامن اور احسن اِنعقاد کے لئے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ عقیدت مندوں کی فلاح و بہبود اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔دورانِ میٹنگ ممبران اسمبلی نے بھی مختلف مسائل پراِظہارِ خیال کرتے ہوئے عقیدت مندوں کی سہولیت کے لئے بہترین اِنتظامات کی ضرورت پر زور دیا۔










