انکوائری آفیسرنے کی تحقیقات شروع ،چوہدری محمد یاسین کرینگے حکومت کو 2دن میں رپورٹ پیش
سری نگر// حکومت کی جانب سے جمعرات کو سپر اسپیشلٹی ہسپتال سری نگر میں عملے ، بدانتظامی اور بنیادی سہولیات کی کمی کے سلسلے میں عائدکردہ الزامات کی تحقیقات کا حکم صادر کئے جانے کے بعدانکوائری افسر چوہدری محمدیاسین نے مذکورہ خاص الخاص اسپتال کی انتظامیہ اورعملے پرعائد الزات کی تحقیقات شروع کردی ۔جے کے این ایس کومعلوم ہواکہ حکومت نے صدر اسپتال سری نگرکے عقب میں واقع سپراسپیشلٹی اسپتال شیرین باغ سری نگر میں مبینہ بدانتظامی اورلازمی سہولیات کی کمی کی تحقیقات کیلئے چودھری محمد یاسین (آئی اے ایس)، مشن ڈائریکٹرنیشنل ہیلتھ مشن، جموں و کشمیر کو انکوائری آفیسر مقرر کیا۔ گورنمنٹ ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے پرنسپل سیکرٹری منوج کمار دویدی کی جانب سے جمعرات16جون کوجاری کردہ ایک آرڈرمیں نامزد انکوائری افسر سے کہا گیا ہے کہ وہ 2دن کے اندر مخصوص سفارشات کے ساتھ اپنی رپورٹ پیش کریں۔معلوم ہواکہ حکومت کے مقررہ انکوائری آفیسر چوہدری محمدیاسین نے جمعہ کے روز سپراسپیشلٹی اسپتال سری نگرکی انتظامیہ کیخلاف عائد کردہ الزامات کی چھان بین اورتحقیقات شروع کردی ،اورانہوںنے اس سلسلے میں پرنسپل گورنمنٹ میڈیکل کالج، سری نگرکے ساتھ ایک میٹنگ کے بعدمذکورہ اسپتال کادورہ کیا ،اوروہاں کی انتظامیہ کے ذمہ داروں سے بھی ضروری جانکاری حاصل کی ۔مذکورہ انکوائری افسر نے سپر اسپیشلٹی ہسپتال سری نگر میں تعینات ڈاکٹروں ،دیگر طبی ونیم طبی عملہ کے کام کاج اوریہاں بیماروں وداخل مریضوں کوفراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے بارے میں ضروری جانکاری حاصل کی ۔معلوم ہواکہ سپر اسپیشلٹی ہسپتال سری نگر میں مبینہ بدانتظامی اورلازمی طبی ودیگرسہولیات کی کمی کے بارے میں مکمل جانکاری لینے کے بعدمقررہ انکوائری آفیسر چوہدری محمدیاسین سنیچر کواپنی سفارشات پرمبنی رپورٹ حکومت کوپیش کریں گے ،جسکے بعدحکومت کی جانب سے مذکورہ اہم اسپتال میں نظم وضبط اورسہولیات کوبہتر بنانے کیلئے فوری وضروری اقدامات روبہ عمل لائے جائیں گے ۔










