suprem court

سپریم کورٹ نے ای وی ایم کے کام میں بے ضابطگیوں

کا الزام لگانے والی عرضی پر غور کرنے سے انکار کردیا

سرینگر///سپریم کورٹ نے جمعہ کو ای وی ایم کے کام میں بے ضابطگیوں کا الزام لگانے والی درخواست پر غور کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہر طریقہ کے اپنے مثبت اور منفی پہلو ہوتے ہیں۔وائس آف انڈیا کے مطابق سپریم کورٹ نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کو لے کر دائر عرضی پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے کام میں بے ضابطگیوں کا الزام لگانے والی عرضی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ای وی ایم کو لے کر کتنی عرضیاں دائر کی گئی ہیں؟ ہر طریقہ کار کے اپنے مثبت اور منفی پہلو ہوں گے، ہم مفروضوں کی بنیاد پر آگے نہیں بڑھ سکتے۔جسٹس سنجیو کھنہ، جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس آگسٹین جارج مسیح کی بنچ نے کہا کہ یہ عدالت پہلے ہی کئی مواقع پر کئی عرضیوں کی جانچ کر چکی ہے اور ای وی ایم کے کام سے متعلق مختلف مسائل پر غور کر چکی ہے۔بنچ نے عرضی گزار نندنی شرما سے کہا، “ہم کتنی درخواستوں پر غور کریں گے؟ حال ہی میں ہم نے VVPAT سے متعلق ایک عرضی پر غور کیا ہے۔ ہم مفروضوں پر نہیں چل سکتے۔ ہر طریقہ کے اپنے مثبت اور منفی پہلو ہوتے ہیں۔ سپریم کورٹ کی بنچ نے حکم میں کہا کہ عرضی میں اٹھائے گئے مسئلے کا سپریم کورٹ نے مختلف درخواستوں میں جائزہ لیا ہے۔ جسٹس کھنہ نے کہا کہ عدالت نے اس معاملے پر 10 سے زیادہ مقدمات کی جانچ کی ہے۔ شرما نے اپنی درخواست میں الیکشن کمیشن آف انڈیا اور چھ سیاسی جماعتوں کو فریق بنایا تھا۔