پلوامہ//جموںوکشمیر اَنرجی ڈیولپمنٹ ( جے اے کے اِی ڈی اے) اور محکمہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے آج کسانو ں کو آبپاشی پمپوں کو بجلی سے چلانے کے لئے سولر اَنرجی کے اِستعمال کے بارے میں ایک بیداری پروگرام کا اِنعقاد کیا۔کمشنر سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سوربھ بھگت کی صدارت میں یہ پروگرام آج یہاں پلوامہ میں منعقد ہوا۔اِس موقعہ پر ضلع ترقیاتی کمشنر پلوامہ بصیر الحق چودھری ، ایڈیشنل ڈائریکٹر جے اینڈ کے سائنس ٹیکنالوجی اینڈ انو ویشن کونسل ، ڈپٹی چیف ایگزیکٹیو آفیسر ’جے اے کے اِی ڈی اے‘ ایگزیکٹیو اَفسران ’ جے اے کے اِی ڈی اے‘ کے علاوہ باغبانی اور زراعت محکموں ، ضلع اِنتظامیہ پلوامہ اور جکیڈا کے دیگر اَفسران نے شرکت کی۔دورانِ پروگرام سوربھ بھگت نے اَفسران اور کسانوں کو مرکز ی وزارتِ نئی اور قابل تجدید توانائی کی طرف سے پی ایم کُسم سکیم کے تحت مختلف فوائد اور مراعات کے بارے میں جانکاری دی گئی۔کمشنر سیکرٹری نے کہا کہ یہ سکیم کسانوں کو 10ایچ پی صلاحیت تک کے سبسڈی والے سولر اَنرجی سے چلنے والے پمپ نصب کرنے، اے سی اور ڈی سی سرفیس اور سبمر سیبل پمپس اِنتخاب کے ساتھ آبپاشی کے مقاصد کے لئے لگانے کی اِجازت دیتی ہے۔ اُنہوں نے گرڈ کنکٹیڈ روف ٹاپ سولر سکیم کے بارے میں بھی بتایا جس کے تحت ڈِسکامز کے گھریلو صارفین کو 65 فیصد کی اِجتماعی سبسڈی فراہم کی جائے گی تاکہ ان کے بجلی بِلوں کو نیٹ میٹرنگ کے طریقہ کار کے تحت اَدا کرنے کے لئے سولر پلانٹس کی تنصیب کی جاسکے۔کمشنر سیکرٹری نے گرڈ کنکٹیڈ روف ٹاپ سولر سکیم کے بارے میں کہا کہ اِس طرح کی سکیمیں جموںوکشمیر یوٹی میں بجلی کی دستیاب پر موجودہ دبائو کا واحد اور قابل عمل حل ہیں۔اُنہوں نے مزید کہا کہ اِس طرح کی سکیمیں ڈی سی آفس کمپلیکس پلوامہ او رتمام سرکاری دفاتر میں مستقبل قریب میں فافذ کی جائیں گی تاکہ بجلی پر اَنحصار ختم کیا جاسکے ۔ یہ مرکزی حکومت کی سبسڈی والی سکیم سے فائدہ اُٹھانے کی کے لئے عوام الناس کے لئے ایک مثال قائم کرے گا۔اِس موقعہ پر ضلع ترقیاتی کمشنر پلوامہ نے اَپنے خیالات کا اِظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے پمپ لگانے سے کسان طبقے کو بجلی کے چارجز کے بوجھ سے نجات ملے گی اور اِس طرح وہ معاشی طور پر مضبوط ہوں گے ۔اِس سے کسانوں کی آمدنی میں اِضافہ ہوگا۔پی ایم کُسم سکیم کے دو اہم اجزأ ہیں جزو’’ بی‘‘ کے تحت ڈیزل سے چلنے والے پمپوں کو سولر پمپ سے تبدیل کیا جاسکتا ہے اور نئے پمپوں کو غیر گرڈ والے علاقوں میں بھی ڈی سینٹر لائزڈ ایپلی کیشن کے تحت نصب کیا جاسکتا ہے جبکہ جزو ’’ سی ‘‘ کے تحت کسانوں کے ذریعہ بجلی کے پمپوں کو شمسی توانائی سے چلنے والے پمپوں سے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔وزارت دونوں زُمروں کے تحت پمپ کی قیمت کا 50 فیصد سبسڈی فراہم کرتی ہے ،جموںوکشمیر حکومت 30فیصد لاگت فراہم کر رہی ہے اور اِستفادہ کنند گان اور کسان کو پمپ کی صرف 20فیصد لاگت برداشت کرنی پڑتی ہے جو کسی بھی بینک کی طر ف سے معمولی شرح سود پر بھی مالی اعانت فراہم کی جائے گی۔یہ سکیم واٹر یوز ر ایسو سی ایشنز سے 10ایچ پی صلاحیت تک کمیونٹی اور کلسٹر پر مبنی آبپاشی پمپوں کی تنصیب کی بھی اِجازت دیتی ہے ۔ بتایا گیا کہ ضلع پلوامہ کو 161سولر پمپوں کا ابتدائی ہدف مختص کیا گی اہے ۔ جموںوکشمیر یوٹی میں پی ایم۔کُسم کے آسانی سے عمل آوری کے لئے ضلع سطح کی کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔مزید برآں، کاشت کار 0.5میگاواٹ سے 2.0 میگاواٹ کی گنجائش والے گرڈ سے منسلک سولر پاور پلانٹس بھی ڈسکامز کو بجلی کی فروخت کے ئے بنجر لینڈ بینکوں پر لگا سکتے ہیں اور 40 لاکھ روپے فی میگاواٹ سالانہ کما سکتے ہیں۔پی ایم ۔ کُسم سکیم اور روف ٹاپ سولر سکیم کے تحت سولر پمپوں کے بارے میں تمام متعلقہ معلومات پر مشتمل پمفلٹ جیسے قیمتیں ، سبسڈی کی رقم ، اِستفادہ کنندگان کا حصہ اور ضلعی نوڈل اَفراد کے رابطہ نمبر کسانوں اور اَفسران میں تقسیم کئے گئے۔










