2018میں تشدد کے 228واقعات سے گھٹ کر 2023میں صرف 50واقعات رونماء ہوئے ۔ امت شاہ
سرینگر///وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ جموں کشمیر میں سنگبازی یا ’’دہشت گردی ‘‘ میں براہ راست ملوث افراد کے کنبوں کے کسی بھی فرد کو سرکاری نوکری نہیں ملے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ کشمیر میں جو بھی ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہوگا اس کے کنبہ کے کسی بھی فرد کو سرکار نوکری نہیں دے گی ۔امت شاہ نے مزید کہا کہ جموں کشمیر میں گزشتہ پانچ برسوں میں تشدد آمیز واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے اور جہاں 2028میں تشددکے 228واقعات رونماء ہوئے وہیں گزشتہ برس 2023میں شدت پسندی کے صرف 50واقعات سامنے آئے ہیں۔ وائس آف انڈیا کے مطابق مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ایک سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں کسی دہشت گرد کے خاندان کے کسی فرد یا پتھراؤ کرنے والوں کے قریبی رشتہ داروں کو سرکاری ملازمت نہیں ملے گی۔شاہ نے یہ بھی کہا کہ نریندر مودی حکومت نے نہ صرف دہشت گردوں کو نشانہ بنایا ہے بلکہ دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام کو بھی ختم کیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں زبردست کمی آئی ہے۔امت شا نے کہا کہ کشمیر میں ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر کوئی دہشت گرد تنظیم میں شامل ہوتا ہے، تو اس کے خاندان کے افراد کو کوئی سرکاری نوکری نہیں ملے گی،اسی طرح، شاہ نے کہا، اگر کوئی پتھر بازی میں ملوث ہے، تو اس کے خاندان کے افراد کو بھی سرکاری نوکری نہیں ملے گی۔انہوںنے بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں وادی کشمیر میں تشدد کے واقعات میںنمایاں کمی واقع ہوئی ہے ۔ مرکزی وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق، 2018 میں جموں و کشمیر میں 228 دہشت گردانہ واقعات ہوئے اور 2023 میں یہ تعداد کم ہو کر 50 کے قریب آ گئی۔2018 میں سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان 189 مقابلے ہوئے اور 2023 میں یہ کم ہو کر تقریباً 40 رہ گئے۔2018 میں دہشت گردی کے مختلف واقعات کی وجہ سے 55 شہری مارے گئے۔ 2023 میں یہ تعداد کم ہو کر تقریباً پانچ ہو گئی۔2018 میں، جموں اور کشمیر میں دہشت گردی کے تشدد میں کل 91 سیکورٹی اہلکار مارے گئے، 2023 میں یہ تعداد گھٹ کر تقریباً 15 رہ گئی۔انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے کچھ کارکن اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ گئے لیکن آخر کار حکومت کامیاب ہو گئی۔تاہم وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت اس صورت میں مستثنیٰ رہے گی جب کسی خاندان کا کوئی فرد سامنے آئے اور حکام کو مطلع کرے کہ اس کا قریبی رشتہ دار دہشت گرد تنظیم میں شامل ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے خاندانوں کو ریلیف دیا جائے گا۔شاہ نے کہا کہ پہلے کشمیر میں کسی دہشت گرد کے مارے جانے کے بعد جنازے نکالے جاتے تھے۔انہوں نے پی ٹی آئی کو ایک انٹرویو میں بتایاکہ”ہم نے اس رجحان کو روک دیا ہے۔ ہم نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ دہشت گرد کو تمام مذہبی رسومات کے ساتھ لیکن ایک الگ تھلگ جگہ پر دفن کیا جائے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ جب کوئی دہشت گرد سیکورٹی فورسز کے گھیرے میں ہوتا ہے تو اسے پہلے ہتھیار ڈالنے کا موقع دیا جاتا ہے۔شاہ نے کہاہم اس کی ماں یا بیوی جیسے خاندان کے افراد کو فون کرتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ وہ دہشت گرد سے ہتھیار ڈالنے کی اپیل کریں۔ اگر وہ (دہشت گرد) نہیں سنتا تو وہ مر جاتا ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے کیونکہ حکومت نے نہ صرف دہشت گردوں کو نشانہ بنایا ہے بلکہ دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام کو بھی ختم کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ این آئی اے (قومی تحقیقاتی ایجنسی) کے ذریعے، ہم نے دہشت گردی کی فنڈنگ کے خلاف سخت کارروائی کی ہے اور اسے ختم کیا ہے۔ ہم نے دہشت گردی کی فنڈنگ پر بہت سخت موقف اختیار کیا ہے،‘‘ممنوعہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا (PFI) کے معاملے میں، شاہ نے کہا کہ حکومت نے اس کے ذریعہ دہشت گردانہ نظریات کی اشاعت اور پھیلاؤ پر پابندی عائد کر دی ہے۔کیرالہ میں قائم مسلم بنیاد پرست گروپ پی ایف آئی کو دہشت گردانہ سرگرمیوں سے مبینہ روابط کی وجہ سے ستمبر 2022 میں مرکز کے ذریعہ غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کی دفعات کے تحت پابندی لگا دی گئی تھی۔ایک مبینہ خالصتانی علیحدگی پسند امرت پال سنگھ کے معاملے میں، “ہم نے اسے NSA (قومی سلامتی ایکٹ) کے تحت جیل میں ڈال دیا ہے”، انہوں نے کہاکہ سنگھ، بنیاد پرست سکھ علیحدگی پسند گروپ ‘وارس پنجاب دے’ کے سربراہ کو اپریل 2023 میں پنجاب میں سخت NSA کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں آسام منتقل کر دیا گیا تھا جہاں وہ ڈبرو گڑھ جیل میں بند ہیں۔انہوں نے حال ہی میں پنجاب کی کھڈور صاحب سیٹ سے لوک سبھا الیکشن لڑنے کے لیے جیل سے پرچہ نامزدگی داخل کیا تھا۔مرکزی وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق، 2018 میں جموں و کشمیر میں 228 دہشت گردانہ واقعات ہوئے اور 2023 میں یہ تعداد کم ہو کر 50 کے قریب آ گئی۔2018 میں سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان 189 مقابلے ہوئے اور 2023 میں یہ کم ہو کر تقریباً 40 رہ گئے۔2018 میں دہشت گردی کے مختلف واقعات کی وجہ سے 55 شہری مارے گئے۔ 2023 میں یہ تعداد کم ہو کر تقریباً پانچ ہو گئی۔2018 میں، جموں اور کشمیر میں دہشت گردی کے تشدد میں کل 91 سیکورٹی اہلکار مارے گئے، 2023 میں یہ تعداد گھٹ کر تقریباً 15 رہ گئی۔واضح رہے امت شاہ نے گزشتہ روز کہا کہ جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات جلد منعقد کرائے جائیں گے اور اس کے ساتھ ہی سٹیڈ ہڈ کی بحالی بھی ہوگی ۔ انہوںنے بتایاکہ لوک سبھا انتخابات میں لوگوں کی شرکت قابل اطمینان ہے ۔










