سمارٹ بارڈر سسٹم جلد نافذ ہوگا، نئی سکیورٹی گرڈ میں جدید ٹیکنالوجی شامل ہوگی

سمارٹ بارڈر سسٹم جلد نافذ ہوگا، نئی سکیورٹی گرڈ میں جدید ٹیکنالوجی شامل ہوگی

سرینگر// یو این ایس// مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے اعلان کیا ہے کہ حکومت ہند جلد ہی ملک کی سرحدوں پر ’’اسمارٹ بارڈر‘‘ نظام متعارف کرانے جا رہی ہے، جس کے تحت جدید ٹیکنالوجی، مقامی انتظامیہ اور سرحدی محافظوں پر مشتمل ایک نئی سکیورٹی گرڈ تشکیل دی جائے گی۔یو این ایس کے مطابق تریپورہ کے لانکامورا بارڈر آؤٹ پوسٹ میں بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ جہاں جہاں بی ایس ایف تعینات ہے وہاں اسمارٹ بارڈر کا تصور عملی شکل اختیار کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کو ابتدائی طور پر ملک کے سات تا آٹھ مقامات پر پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر نافذ کیا جائے گا تاکہ اس کی افادیت کا جائزہ لیا جا سکے۔ امت شاہ نے کہا کہ ہر سرحد کو مختلف نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں انسانی اسمگلنگ، اسلحہ کی غیر قانونی ترسیل اور منشیات کی اسمگلنگ شامل ہیں، تاہم بی ایس ایف کے جوان ان خطرات کا مقابلہ بھرپور انداز میں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی سکیورٹی گرڈ میں ضلع مجسٹریٹس، سپرنٹنڈنٹس آف پولیس، پٹواریوں اور سرپنچوں کو بھی شامل کیا جائے گا تاکہ سرحدی علاقوں میں نگرانی اور اطلاعاتی نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔وزیر داخلہ نے زور دے کر کہا کہ جب تک سرحدی علاقوں کی مقامی انتظامیہ اس نظام کا حصہ نہیں بنتی، اس وقت تک سرحدوں کو مکمل طور پر ناقابلِ تسخیر نہیں بنایا جا سکتا۔ ان کے مطابق 2047 تک بھارت کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے لیے جعلی کرنسی، انسانی اسمگلنگ اور منشیات کی سرحد پار آمد و رفت کو مکمل طور پر روکنا ناگزیر ہے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت نے 15 سال سے زائد پرانی تقریباً 650 کلومیٹر طویل سرحدی باڑ کے ایک حصے کی جگہ 119 کلومیٹر نئی اور جدید باڑ نصب کرنے کی منظوری بھی دے دی ہے۔ اس کے علاوہ سرحدی چوکیوں پر بجلی، صاف پینے کے پانی اور گرین انرجی جیسے متعدد منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں تاکہ تعینات اہلکاروں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔یو این ایس کے مطابق امت شاہ نے گزشتہ ماہ نئی دہلی میں بھی اعلان کیا تھا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ تقریباً 6 ہزار کلومیٹر طویل سرحد کو ناقابلِ عبور بنانے کے لیے اگلے سال تک ٹیکنالوجی سے لیس ’’اسمارٹ بارڈر‘‘ منصوبہ شروع کیا جائے گا۔ اس نظام میں جدید ڈرونز، ریڈار اور اسمارٹ کیمروں کا استعمال کیا جائے گا تاکہ دراندازی اور غیر قانونی سرگرمیوں کو مؤثر طور پر روکا جا سکے۔انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نہ صرف غیر قانونی دراندازی کو روکنے کے لیے پرعزم ہے بلکہ ملک میں موجود ہر غیر قانونی درانداز کی نشاندہی کر کے اسے واپس بھیجنے کا عزم بھی رکھتی ہے۔دریں اثنا وزیر داخلہ نے لانکامورا بارڈر آؤٹ پوسٹ میں شجرکاری مہم میں بھی حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ 2019 سے اب تک تمام مرکزی مسلح پولیس فورسز کے اہلکار 7.5 کروڑ سے زائد درخت لگا چکے ہیں۔ رواں سال 40 سے 60 لاکھ اور آئندہ سال دو کروڑ درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔بعد ازاں امت شاہ نے بی ایس ایف کے تریپورہ فرنٹیئر ہیڈکوارٹرز میں ایک اعلیٰ سطحی سکیورٹی اجلاس کی صدارت بھی کی، جس میں مانک شاہ چیف سیکریٹری جے کے سنہا، ڈائریکٹر جنرل پولیس انوراگ دھانکر اور دیگر اعلیٰ سکیورٹی حکام نے شرکت کی۔