16اور 20جنوری کو مغربی ہوائوںکے اثر انداز ہونے سے بالائی علاقوںمیں ہلکی برفباری کاا مکان
سرینگر//وادی میں چلہ کلاں کے چالیس روزکے بیس روز خشک گزرے جو کہ پانچ سال بعد دسمبر اور جنوری میں خشک موسم دیکھنے کو ملا ہے جبکہ 45روز بعد سنیچر وار کو گریز کے بالائی علاقوں میں ہلکی برفباری ہوئی ۔ ادھر سرینگر میں دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 14.4ڈگری ریکارڈ کیا گیا ۔ ادھر محکمہ موسمیات نے 23جنوری تک مجموعی طور پر موسم خشک رہنے کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا کہ 16سے 20جنوری تک بالائی علاقوںمیں ہلکی برفباری کا امکان ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق رواںچلہ کلاں کا نصف موسم خشک ہی گزر چکا ہے اور اس موسم سرما میں نہ تو بارش ہوئی اور نہ ہی برفباری۔ ماہرین کے مطابق پانچ سال بعد جموں و کشمیر میں دسمبر اور جنوری میں 45 دن خشک سالی رہی۔موسمیات کے ماہر نے ہفتے کے روز 16 اور 20 جنوری کو آنے والے مغربی ہوائیں اثرانداز ہونے کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہاکہ مجموعی طور پر موسم 23جنوری تک خشک رہے گاتاہم 16 اور 20 کی شام کو بالائی علاقوں میں ہلکی برفباری کاامکان ہے ۔ انہوں نے کہا کہ “جموں ڈویڑن کے میدانی علاقوں میں کل سے 16 جنوری تک سرد دن کے حالات کے ساتھ دھند رہے گی۔دریں اثنا سرینگر میں شبانہ درجہ حرارت 0.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جب کہ گزشتہ رات منفی 4.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ قاضی گنڈ میں گزشتہ رات منفی 4.2 ڈگری سینٹی گریڈ کے مقابلے میں کم از کم منفی 2.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح سے پہلگام میں پچھلی رات منفی 5.3 ڈگری سینٹی گریڈ کے مقابلے میں منفی 0.6 ° C ریکارڈ کیا گیا ۔انہوںنے بتایا کہ جنوبی کشمیر میں بھی کوکرناگ میں گزشتہ رات منفی 2.4 ڈگری سینٹی گریڈ کے مقابلے میں کم از کم منفی 1.2 ° C ریکارڈ کیا گیا اور اس جگہ کے لئے درجہ حرارت معمول سے 2.44 ° C سے زیادہ تھا۔شمالی کشمیر کے کپواڑہ قصبے میں گزشتہ رات منفی 4.4 ڈگری سینٹی گریڈ کے مقابلے میں منفی 0.3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا اور وہاں یہ معمول سے 2.6 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ تھا۔عہدیدار نے بتایا کہ گلمرگ میں پچھلی رات منفی 3.2 ڈگری سینٹی گریڈ کے مقابلے میں کم سے کم 1.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا اور شمالی کشمیر میں دنیا کے مشہور اسکیئنگ ریزورٹ کے لیے درجہ حرارت معمول سے 6.9 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ تھا۔انہوں نے کہا کہ جموں میں گزشتہ رات 3.7 ° C کے مقابلے میں کم از کم 4.0 ° C ریکارڈ کیا گیا، اور یہ جموں و کشمیر کے سرمائی دارالحکومت کے لئے معمول سے 3.0 ° C سے کم تھا۔انہوں نے بتایا کہ بانہال میں کم سے کم درجہ حرارت 3.0 ڈگری سینٹی گریڈ، بٹوٹ میں 8.0 ڈگری سینٹی گریڈ اور بھدرواہ میں 5.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ادھر ماہرین کاکہناہے کہ برف باری نہ ہونے کی وجہ سے وادی کے آبی ذخائر میں پانی کی سطح کم ہو سکتی ہے۔ اس سے گرمیوں میں پانی کی قلت مزید بڑھ سکتی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق 23 جنوری تک موسم خشک رہنے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مختار احمد نے کہا کہ ایسا خشک اسپیل پہلے بھی دیکھا گیا ہے۔ 2022 میں دسمبر بغیر بارش کے گزر گیا جب کہ 2018 میں بھی دسمبر اور جنوری میں بارش نہیں ہوئی۔ادھر گلیشیر کے ماہر اور موسمیاتی تبدیلی کے محقق پروفیسرشکیل احمد رومشو کے مطابق اس موسم سرما میں اوسط سے کم برفباری اور طویل خشک خزاں تشویشناک ہے۔ جس کی وجہ سے گرمیوں میں پانی کی قلت ہو سکتی ہے۔ تاہم فروری، مارچ اور اپریل میں برف باری یا بارش کی پیشین گوئی کرنا قبل از وقت ہے۔ عام طور پر ان مہینوں میں 40 فیصد تک بارش اور برف باری ہوتی ہے۔ اگر خشک موسم فروری تک جاری رہا تو گرمیوں میں آبی ذخائر پر اس کا خاصا اثر پڑے گا۔ادھر ایس پی کالج سری نگر کے انوائرمینٹل سائنس کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر صہیب احمد بند کا کہنا ہے کہ کشمیر کے آبی ذخائر پر طویل خشک موسم کے اثرات ماحولیاتی خدشات کو بڑھا رہے ہیں۔ کشمیر جو اپنی جھیلوں اور دریاؤں کے لیے مشہور ہے، خشک موسم کی وجہ سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہے۔ کم بارشوں اور تیز بخارات کی شرح کی وجہ سے، تمام آبی ذخائر میں پانی کی سطح گر سکتی ہے، جو ماحولیاتی توازن کو بگاڑ دے گی۔ بارش اور برف باری پر منحصر پودوں اور جنگلی حیات کے لیے خطرہ بڑھ جائے گا۔ زراعت بھی متاثر ہو گی۔ ڈل جیسی تاریخی جھیلوں کے سکڑنے سے سیاحت اور مقامی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔ ان خدشات کو دور کرنے کے لیے پانی کے پائیدار انتظام کے طریقے، آبپاشی کی موثر تکنیک اور تحفظ کے اقدامات اہم ہیں۔ بدلتے ہوئے موسمیاتی رجحانات کے پیش نظر کشمیر کے آبی ذخائر کی لچک کو یقینی بنانے کے لیے علاقائی اور مقامی سطح پر مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔جموں و کشمیر کے ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں ماحولیاتی سائنس کے لیکچرر ڈاکٹر عامر حسین بھٹ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں طویل خشک مدت کے دوران کم بارش دریاؤں، جھیلوں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح کو کم کرنے کا باعث بنے گی۔ یہ کمی نہ صرف آبی ماحولیاتی نظام کو خطرے میں ڈالے گی بلکہ زراعت پر بھی شدید رکاوٹیں کھڑی کر سکتی ہے جو کہ مقامی باشندوں کے لیے بنیادی ذریعہ معاش ہے۔ ڈاکٹر بھٹ نے کہا کہ آبی ذخائر خشک ہونے سے آبپاشی کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے جس سے فصل کی پیداوار اور مجموعی زرعی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔










