damaged roads in kashmir

سرینگر میں متبادل رابطہ سڑک کی تعمیر میں تاخیر، 8 سال گزرنے کے باوجود کام ادھورا

سرینگر// زیرو برج سے ائرپورٹ روڈ تک متبادل رابطہ سڑک کا منصوبہ، جو 2017 میں شروع کیا گیا تھا، اب آٹھ سال گزر جانے کے باوجود مکمل نہیں ہو سکا۔ یہ سڑک تقریباً 10.5 کلومیٹر لمبی ہے اور اس کی تعمیر کا مقصد شہر میں ٹریفک کے دباو کو کم کرنا تھا، لیکن مختلف پیچیدگیوں کی وجہ سے کام کی رفتار سست رہی ہے۔وی او آئی کے مطابق یہ منصوبہ 2017 میں شروع کیا گیا، جب اس وقت کے تعمیرات عامہ کے وزیر نے 10 ستمبر کو اس کی بنیاد رکھی تھی۔ سڑک کی کشادگی کے لیے مرکزی روڈ فنڈ کے تحت 28 کروڑ 79 لاکھ روپے کا تخمینہ لگایا گیا۔ یہ سڑک جواہر نگر، لال منڈی، حضوری باغ، بخشی اسٹیڈیم، اور تلسی باغ کو ائرپورٹ روڈ سے ملانے کا منصوبہ ہے۔ابتدائی مراحل میں، حکام نے کئی تجاوزات کو ہٹا دیا، لیکن بعد میں کچھ ڈھانچوں کو متاثر نہ کرنے کی وجہ سے کام میں رکاوٹیں آئیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سڑک کی حالت اس وقت انتہائی خراب ہے اور وہاں گرد و غبار کی وجہ سے انہیں روزمرہ کی زندگی میں مشکلات کا سامنا ہے۔کرسو بنڈ اور فلڈ چینل بنڈ سے جواہر نگر تک کی سڑک کی کشادگی کا کام تو جزوی طور پر مکمل ہو چکا ہے، لیکن باقی حصوں کی تعمیر میں کوئی خاص پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔ مقامی کمیونٹی کے ارکان نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ تقریباً دو سال قبل، 2021 میں، انہوں نے حکام سے سڑک کی تعمیر میں رکاوٹوں کے خلاف نوٹس لینے کی درخواست کی تھی۔کرسو راجباغ کے رہائشیوں نے بتایا کہ انہیں روزانہ اس سڑک سے گزرنا مشکل ہو رہا ہے۔ایک شہری نے کہا کہ انہوں نے 2021 میں متعلقہ مشیر کے پاس شکایت کی تھی اور سڑک کی حالت کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ “جب سے سڑک کی کشادگی کا کام شروع ہوا ہے، اس کی حالت مزید بگڑ گئی ہے۔ گرد و غبار ہمارے گھروں میں داخل ہو جاتا ہے اور لوگوں کو یہاں سے گزرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔”محکمہ تعمیرات عامہ نے اس منصوبے کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے اور کہا کہ کچھ پیچیدگیاں درپیش ہیں، لیکن انہیں جلد دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کرسو تک سڑک پر میگڈم کا کام جاری ہے۔مقامی لوگوں نے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں تاکہ سڑک کی تعمیر کو جلد از جلد مکمل کیا جا سکے۔ اس کے مکمل ہونے سے نہ صرف مقامی آبادی کی مشکلات میں کمی آئے گی، بلکہ سرینگر کے دیگر علاقوں میں ٹریفک کے دباؤ میں بھی خاطر خواہ کمی ہوگی۔