شہر میں کتوں کی آبادی ایک لاکھ سے تجاوز،شہر میں5برسوں میں30ہزار کتوں کا تر نوالہ
سرینگر// پائین شہر میں آوارہ کٹوں کے کاٹنے کے تعداد میں اضافہ ہوا ہے جبکہ شہریوں کا کہنا ہے کہ ان آوارہ کتوں نے گلیوں،کوچوں اور سڑکوں پر دہشت زدہ ماحول بپا کیا ہے۔ وائس آف انڈیا کے مطابق پائین شہر کے زالڈگر,چستی کوچہ،فتح کدل،مجاہد منزل، نواب بازاراور دیگر علاقوں کے شہریوں نے ان علاقوں میں آوارہ کٹوں کی تعداد میں اضافہ ہونے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انکے گھروں سے اب باہر نکلنا محال ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کتوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ متعلقہ ایجنسیوں کیلئے اگر چہ فکرمندی کا سامان ہونا چاہے تاہم انہوں نے شہریوں کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔چستی کوچہ زالڈگر کے ایک شہری اعجاز احمد نے بتایا کہ ان کے علاقوں میں آوارہ کتوں نے گلیوں،کوچوں اور سڑکوں پر اپنا راج قائم کیا ہے،اور بچوں و بزرگوں کا گھروں سے نکلنا اب وبال جان بن چکا ہے۔اعجاز احمد نے بتایا کہ آوارہ کٹوں کے کاٹنے کے واقعات میں بھی ہوش ربا اضافہ ہوا ہے،اور صدر اسپتال کے اعداد شمار اس بات کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔ ایک اور شہری عادل احمد نے بتایا کہ علاقے کے لونے کئی بار متعلقہ ایجنسیوں اور اداروں سے بھی رابطہ قائم کیا تاہم وہ ٹس سے مس نہیں ہو رہے ہیں۔ عادل نے براہ راسٹ سرینگر میونسپل کارپوریشن پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کتوں کی نسبندی کے حوالے سے متعلقہ محکمہ خواب خرگوش میں ہیں۔ اعجاز کا کہنا تھا کہ کئی بار انہوں نے سرینگر میونسپل کارپوریشن کے افسراں اور اہلکاروں کو ان کے علاقے کے کتوں کی نسبندی کرنے کی اپیل کی تاہم اس فریاد کو سرد خانے کی نذر کردیا گیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سری نگر میں کتوں کے حملوں کے بڑھتے ہوئے واقعات لوگوں کیلئے چیلنج کر بن رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہر میں آوارہ کتے ایک اہم تشویش بنتے جا رہے ہیں، جو رہائشیوں اور آنے والوں دونوں کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔حال ہی میں کشمیر بالخصوص سری نگر میں کتے کے کاٹنے کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سری نگر میونسپل کارپوریشن کے مطابق، تقریباً 91,000 آوارہ کتے سڑکوں پر گھومتے ہیں، جو بزرگوں سے لے کر بچوں تک سب کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ یہ کتے اکثر جارحانہ رویے کا مظاہرہ کرتے ہیں، جیسے کاروں،موٹر سائیکلوں وسائیکلوں کا پیچھا کرنا، اور پیدل چلنے والوں پر حملہ کرنا شامل ہیں۔ جموں و کشمیر اسٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن نے کتوں کے ان حملوں کو “انسانی حقوق کی خلاف ورزی” قرار دیا تھا۔سری نگر کے شری مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال کے اعداد و شمار اس مسئلے کی شدت کو نمایاں کرتے ہیں۔ یکم اپریل 2021 سے 31 مارچ 2022 تک کتے کے کاٹنے کے 5,629 واقعات رپورٹ ہوئے۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) سری نگر کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن کے مطابق، گزشتہ دہائی کے دوران، 58,869 افراد کتے کے کاٹنے کا شکار ہوئے ہیں۔۔ پچھلے پانچ سالوں کے دوران، صدر ہسپتال میں کتے کے کاٹنے کے 30,000 کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں، جن میں سے 2,800 صرف سری نگر میں پیش آئے ہیں۔کشمیر میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی آبادی میں کئی عوامل کارفرما ہیں۔ سڑکوں پر کوڑا کرکٹ اور پولٹری فضلہ کا جمع ہونا کتوں کی افزائش گاہ فراہم کرتا ہے۔ شہر روزانہ 450 میٹرک ٹن کچرا پیدا کرتا ہے اور 100,000 پولٹری برڈز کو ذبح کرتا ہے، جس سے 40,000 کلوگرام پولٹری فضلہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ ماحول کتوں کی تیزی سے افزائش کو فروغ دیتا ہے، ہزاروں افزائش نسل کی کْتیاں ہر سال تقریباً پانچ کتے کا اضافہ کرتی ہیں۔بڑھتے ہوئے بحران کے باوجود، میونسپل کارپوریشنز، خاص طور پر ایس ایم سی، نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے موثر اقدامات نہیں کیے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اس میں فوری اقدامات کی ضرورت ہے، بشمول فضلہ کے بہتر انتظام، نس بندی اور وٹیکہ کاری کے پروگرام کو تیز کرنا، اور آوارہ کتوں کے لیے پناہ گاہوں کا قیام۔ اینیمل برتھ کنٹرول پروگرام، جو طویل مدتی کنٹرول کے لیے نس بندی پر توجہ مرکوز کرتا ہے، کو ترجیح دی جانی چاہیے۔










