dooran

سرکاری اراضی کی منتقلی میں محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹروں کو اختیار

جنوبی کشمیر میں مالی بے ضابطگیوں کے الزمات کی جانچ کیلئے کمیٹی تشکیل

سرینگر//حکومت نے اسکولوں کو زمین فراہم کرنے کے عمل کو آسان بنانے کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹروں کو اب سرکاری اور کاہچرائی زمینوں کی منتقلی اور الاٹمنٹ کے لیے اختیار دے دیا گیا ہے۔ اس سے قبل زمین کی منتقلی کے لیے طویل اور پیچیدہ عمل سے گزرنا پڑتا تھا، جس کی وجہ سے اسکولوں کی تعمیر اور توسیع میں مشکلات کا سامنا رہتا تھا۔وائس آف انڈیا کے مطابق نئے نوٹیفیکیشن کے تحت، ڈائریکٹروں کو اپنے اپنے علاقوں میں اسکولوں کی ضرورت کے مطابق زمین کی شناخت، درخواست اور منظوری کے عمل کو خود مکمل کرنے کا اختیار ہوگا۔ تاہم، اس کے لیے ضروری فنڈس کی دستیابی کو یقینی بنانا بھی ڈائریکٹروں کی ذمہ داری ہوگی۔اس اقدام سے امید کی جا رہی ہے کہ اسکولوں کو زمین کی دستیابی میں آسانی ہوگی اور اس طرح تعلیمی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔اس دوران ضلع اننت ناگ کے اسکولوں میں بڑے پیمانے پر مالی گڑبڑی کے الزامات سامنے آئے ہیں جس پر انتظامیہ نے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ڈائریکٹریٹ آف اسکول ایجوکیشن کشمیر میں تعینات چیف اکاؤنٹس آفیسر سیدہ مبشرہ کو باقاعدہ محکمہ جاتی جانچ کیس میں انکوائری آفیسر مقرر کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔اس کیس میں ملوث افراد میں شفیق احمد شاہ (تب ماسٹر کولگام)، شبیر احمد شاہ (تب استاد ہائی سکول ہردتورا اننت ناگ)، راضیہ نسیم (تب استانی زون شنگوس) اور شاہینہ اختر (تب استانی ہائی سکول ہردتورا اننت ناگ) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ عبد الرشید ڈار، ڈپٹی چیف ایجوکیشن آفیسر اننت ناگ کو اس معاملے میں پریذنٹنگ افسر کے طور پر تعینات کیا گیا ہے۔محکمہ تعلیم کے پرنسپل سیکریٹری آلوک کمار نے تحقیقاتی آفیسر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 21 دنوں کے اندر اس معاملے پر تفصیلی انکوائری رپورٹ تیار کرکے مخصوص سفارشات کے ساتھ پیش کریں۔