Basit Rishi's land attached in Zaina Gersopur

سرحدپار مقیم نامزدملی ٹنٹوںکی جائیدادوںکی قرقی جاری

زینہ گیرسوپورمیں باسط ریشی کی زمین منسلک ،پولیس وسیول حکام کی مددسے این آئی اے کی کارروائی

سری نگر//قومی تحقیقاتی ایجنسی (NIA) نے جمعہ کو شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع میں حزب المجاہدین کے ملی ٹنٹ باسط احمد ریشی کی جائیداد غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) کے تحت ضبط کر لی ۔جے کے این ایس کے مطابق این آئی اے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کی سرزمین پرموجود سرگرم دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھتے ہوئے ضلع بارہمولہ میں واقع باسط احمد ریشی ولد محمد رمضان ریشی کی جائیداد واقع ایدی پورہ زینہ گیرسوپورضبط کر لی گئی ہے،اوریہ کارروائی مرکزی وزارت داخلہ کی ہدایت پر عمل میں لائی گئی ہے۔بیان میں مزید کہاگیا کہ باسط احمد ریشی،یواے(پی) ایکٹ کے تحت ایک ’نامزد ہشت گرد‘ ہے اور پاکستان میں مقیم رہ کر پاکستانی حکام کیلئے کام کر رہا ہے۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی (NIA) نے مزید کہاکہ وہ وادی میں دہشت گردانہ سرگرمیوں اور کارروائیوں کو فنڈز فراہم کرتا پایا گیا ہے۔ باسط احمد ریشی نے2015 میں ملی ٹنٹوں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی اور سوپور میں پولیس گارڈ پوسٹ پر دہشت گردانہ حملے کی منصوبہ بندی اور اس کو انجام دینے میں ملوث تھا جس میں ایک کانسٹیبل ہلاک اور دیگر زخمی ہوئے تھے۔این آئی اے نے کہا کہ باسط پہلے ممنوعہ دہشت گرد تنظیم حزب المجاہدین سے وابستہ تھا اور بعد میں وہ پاکستان چلا گیا۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی میں مزید کہا گیا کہ باسط احمد ریشی اس وقت مزاحمتی محاذ (TRF) کی دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہے اور وہ اسلحہ/گولہ بارود کا انتظام اور سپلائی کیساتھ ساتھ سرحد پار سےTRF کے لئے فنڈز فراہم کرتا ہے۔بیان میں مزید کہاگیاکہ باسط ریشی کی 9.25 مرلہ کی زرعی اراضی کویواے(پی) ایکٹ کے دفعات کے تحت منسلک کیا گیا ہے۔ ریاستی حکومت اور ریاستی پولیس کے نمائندوں نے این آئی اے کو زمین کی قرقی عمل میں لانے کی کارروائی میں مدد فراہم کی۔قابل ذکر ہے کہ آج تک قومی تحقیقاتی ایجنسی (NIA) نے5 نامزد دہشت گردوں کی جائیدادیں ضبط کی ہیں، جن میں امریکہ میں مقیم گروپتونت سنگھ پنن، کینیڈا میں مقیم ہردیپ سنگھ ننجر، اور پاکستان میں مقیم مشتاق زرگر المعروف لٹرم، باسط احمد پیر اور کے سی ایف (پنجوار) پرمجیت سنگھ عرف پنجوار،شامل ہے۔اس کے علاوہ، NIAنے حال ہی میں، UAPA کے تحت، سری نگر میں حریت دفتر کو منسلک کیا۔