مقامی لوگوں میں تشویش کی لہر ، ندی نالوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے اقدامات اٹھانے کی اپیل
سرینگر // جنوبی ضلع پلوامہ کے سب ڈویژ ن ترال کے مختلف علاقوں میں آبی ذخائیر گندگی کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئے ہیں جس پر مقای آبادی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ندی نالوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور ان کو گندہ کرنے والے عناصر کے خلاف کارورائی کی جائے ۔ سی این آئی کو نمائندے نے اس ضمن میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ترال کے مختلف علاقوں میں موجود آبی ذخائر اب گندگی کی وجہ سے کافی متاثر ہو گئے ہیں اور ان میںموجود پانی کافی آلودہ ہو گیا ہے کیونکہ ان میںخود غرض عناصر گندگی اور غلاظت کے ڈھیر جمع کراتے ہیں ۔ مقامی لوگوں نے نمائندے کو بتایا کہ تمام آبی ذخائر ڈمپنگ سائٹس میں تبدیل ہو گئے ہیں جبکہ حکام غیر متحرک ہیں، جس کی وجہ سے مقامی لوگوں خاص طور پر کسانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ ان آبی ذخائر کو بچانے کی اشدت ضرورت ہے کیونکہ ایک تو یہ علاقہ کی خوبصورتی بڑھاتے ہیں جبکہ اس کے ساتھ ساتھ کھیتوں کو سیراب کرنے میں ان کا کلیدی رول ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ان آبی ذخائر پر عرصہ دراز سے تجاوزات ہیں اس کے علاوہ تمام گندگی ان آبی ذخائر میں پھینک کر ان کے وجود کو تاریکیوں میں ڈال دیا گیا ہے۔ایک سماجی کارکن نے کہا کہ دیہات سے گزرنے والی پانی کی نہریں ڈمپنگ سائٹس میں تبدیل ہو گئی ہیں کیونکہ پالی تھین، پلاسٹک کی بوتلیں اور دیگر گندگی کے ڈھیر دیکھے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں آبی ذخائر کو بچانے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ آبی ذخائر ہر گزرتے دن کے ساتھ سکڑ رہے ہیں اور ان آبی ذخائر کی فوری بحالی کی ضرورت ہے۔مقامی لوگوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے متعدد بار متعلقہ حکام کو آگاہ کیا لیکن وہ اس سلسلے میں کوئی خاطر خواہ کارروائی نہیں کر سکے۔کسانوں کا کہنا تھا کہ دھان کے پودے لگانے کا سیزن شروع ہونے والا ہے لیکن ان آبی ذخائر جن پر ہم آبپاشی کیلئے انحصار کرتے ہیں ابھی تک صاف نہیں کیے گئے۔انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا جلد از جلد جائزہ لیں اور اس سلسلے میں فوری اقدامات کریں۔










