ربی کی فصل کے بیجوں کے اگنے میں نمایاں طور پر تاخیر سے کسانوں میں پیداوار میں کمی کے بارے میں تشویش
سرینگر // سال رواں کے دوران میدانی علاقوں میں طویل خشک موسم نے ربی کی فصل کے بیجوں کے اگنے میں نمایاں طور پر تاخیر کی ہے، جس سے کسانوں میں پیداوار میں کمی کے بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے۔اس کے علاوہ بارشیں اور برفباری نہ ہونے کے باعث زعفران کے فصل کو بھی امسال کافی نقصان ہونے کا اندیشہ لاحق ہو گیا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق امسال طویل خشک سالی سے جہاں لوگ پریشان ہے وہیں فصلوں کو اُگانے کیلئے بیچ بونے کے عمل میں بھی تاخیر سے کسان پریشان ہے ۔ اگرچہ وادی کے کچھ بالائی علاقوں میں ہلکی برفباری ہوئی تاہم میدانی علاقوں میں گزشتہ چند ماہ میں کوئی بڑی بارش نہیں ہوئی ہے جس کے نتیجے میں وادی کے مختلف حصوں کے کسانوں نے فصلوں کیلئے بیچ بونے میں تاخیر پر خدشہ ظاہر کیا ہے، جس سے انہیں خدشہ ہے کہ مجموعی پیداوار پر اثر پڑے گا۔جنوبی ضلع پلوامہ کے پتل باغ گاؤں کے ایک کسان نے بتایا کہ اس علاقے میں موسم سرما میں شدید خشکی رہی ہے۔ انہوں نے کہا ’’گزشتہ چار ماہ سے کوئی خاص بارش نہیں ہوئی ہے اور خشکی کی وجہ سے پیدا ہونے والے تناؤ نے ربی کی فصل کے بیجوں جیسے جئی، تیل کے بیج، مٹر، لہسن اور پیاز کے انکرن کو بری طرح متاثر کیا ہے‘‘۔پامپور کے ایک اور کسان منظور احمد نے زعفران کی فصلوں کو پہنچنے والے نقصان پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا ’’ زعفران کی فصل کو تین اہم مراحل کے دوران نمی کی ضرورت ہوتی ہے، جن میں سے ایک پھولوں کی کٹائی کے بعد ہے۔ ‘‘ انہوں مزید کہا کہ زعفران کے پھولوں کی کٹائی کے بعد اس موسم سرما میں کوئی خاطر خواہ بارش نہیں ہوئی۔کسان نے مٹر کے بیجوں کے ناقص انکرن پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا ’’پچھلے سال اس وقت تک، میری مٹر کی فصل پودوں کے مرحلے تک پہنچ چکی تھی، لیکن اس موسم سرما میں، اس کا اگنا ابھی باقی ہے‘‘۔واضح رہے کہ اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں گزشتہ دو مہینوں میں صرف 19.9 ملی میٹر بارش ہوئی، جو کہ عام اوسط 70.5 ملی میٹر سے کافی کم ہے۔ اس مدت کے دوران بہت سے علاقوں میں 60سے 99فیصد تک بارش کی کمی ہوئی ہے۔










