کیف /ایجنسیز// یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کو ایک کھلا خط لکھتے ہوئے جنگ کے خاتمے کے لیے روبرو ملاقات کی پیشکش کی ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے نام اپنے کھلے خط میں صدر زیلنسکی نے کہا کہ وہ براہ راست ملاقات کے لیے تیار ہیں اور یوکرین جنگ کو ’’براہِ راست مذاکرات کے ذریعہ‘‘ ختم کرنا چاہتے ہیں۔ جمعرات کو زیلنسکی نے اپنے خط میں لکھا،’’یوکرین مذاکرات کے پورے دورانیے کے لیے مکمل جنگ بندی پر آمادہ ہے۔‘‘ کریملن نے تصدیق کی ہے کہ اسے یہ خط موصول ہو گیا ہے اور صدر پوٹن کو اس کے مندرجات سے آگاہ کیا جائے گا۔ 2022 میں روس کی جانب سے یوکرین کے خلاف جارحیت کے آغاز کے بعد یہ ان چند مواقع میں سے ایک ہے جب زیلنسکی نے براہ راست پوٹن سے رابطہ کیا ہے۔ یوکرینی صدر نے کہا کہ روسی عوام بھی اس طویل تنازعے سے تھک چکے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پوٹن ذاتی طور پر اس نتیجے پر نہیں پہنچتے کہ’’اب اس جنگ کے خاتمے کا وقت آ گیا ہے‘‘تو یوکرین’’اپنے وجود کے دفاع کے لیے لڑائی جاری رکھے گا۔‘‘ یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ نے یورپ کی سلامتی، عالمی معیشت اور بین الاقوامی سیاسی منظرنامہ پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، جبکہ عالمی برادری دونوں ممالک کے درمیان سفارتی حل کی کوششوں پر زور دے رہی ہے۔










