سری نگر//بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے کہ باغبانی سیاحتی ترقی اہم کردار اَدا کرتی ہے اور جموںوکشمیر میں باغبانی کی کثرت کے منفرد و امتزاج کی وجہ سے جموںوکشمیر یوٹی میں سیاحت کو فروغ دینے کی کافی گنجائش ہے۔جموںوکشمیر حکومت نے جموںوکشمیر یوٹی میں باغبانی سیاحت کو فروغ دینے کی خاطر قدرت کے اِس تحفے کو بہترین طریقے سے اِستعمال کرنے کی اَپنی کوششوں میں یہاں باغبانی صنعت کو فروغ دینے کے لئے متعدد اِقدامات شروع کئے ہیں۔پہلی بار جموںوکشمیر کے محکمہ ہارٹی کلچر نے باغبانی سیاحت کو فروغ دینے کے لئے ایک ایسی جگہ پر ’’ جشن بہار‘‘ کا اِنعقاد کیاجو باغبانی کی پیداوار کے منفرد معیار اور دِلکش مناظر کے لئے پوری دُنیا میں جانا جاتا ہے۔ڈائریکٹر جنرل ہارٹی کلچر کشمیر اعجاز احمد بٹ نے منفرد پہل کا تصور پیش کیا ۔اُنہوں نے کہاکہ سیاحت کا طریقہ کسانوں کی طرف سے فروخت کی جانے والی باغبانی پیداوار کو اہمیت دے سکتا ہے اور دیہی علاقوں میں پائیداری کو بڑھا سکتا ہے۔ اس سے کشمیر میں پروڈیو سروں کی طرف سے فروخت کی جانے والی اقسام کی صداقت کو فروغ دینے میں بھی مدد ملے گی ۔ سیاح باغبانی پیداوار کے مختلف مراحل کا تجربہ کریں گے اور پھل باغات کے قدرتی ماحول سے بھی لطف اندوز ہوں گے ۔‘‘ اُنہوں نے سینٹر آف ایکسی لینس زوورہ سری نگر میں 312 کنال اراضی پر محیط’’ جشن بہار ‘‘ فیسٹول کا دورہ کرنے کے بعدان خیالات کااِظہار کیا۔سپرنگ بلاسم فیسٹول نے سینکڑوں پھل درختوں کے پھولوں کی خو شبو ، خوبصورتی اور رنگوں کا مشاہدہ کرنے کے لئے ہزاروں سیاحوں کو راغب کیا۔محکمہ کا بنیادی مقصد باغبانی پیداوار کو فروغ دینے کے علاوہ ماہر اور عام سیاحوں کے لئے منزل کی کشش کو بڑھانا ہے۔سینٹر آف ایکسی لینس 902.10لاکھ روپے کی لاگت سے زوورہ سری نگر قائم کیا گیا ہے ۔مرکزی حکومت کی طرف سے ایم آئی ڈی ایچ سکیم کے تحت انڈوڈچ ورک پلان کے تحت اعلیٰ معیار کے پھلوں کے پودوں کی پیداوار کے لئے سہولیات موجود ہیںاور یہ مائیکرو اری گیشن ، ہائی ٹیک گرین ہائوس ٹیکنالوجی ، ٹشو کلچر لیبز ،ئیو کنٹرول لیبز اور موسمی امراض کی پیش گوئی کرنے والے سٹیشن کے منصوبوں کے لئے ایک مرکز کے طور پر کام کرتا ہے۔سیاح چیری کے درختوں، بیر کے درختوں، آڑو، خوبانی، ناشپاتی اور ایپل کے سینکڑوں پھولوں کو دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں جو 312 کنال رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں اور سردی کے موسم کے بعد لوگوں کی روح کو مسحور کرنے کے لئے پرکشش ماحول پیش کر رہے ہیں۔یوپی کے ایک تاجر برجیش سنگھ نے اَپنے کنبے کے ساتھ سپرنگ بلاسم فیسٹول کا دورہ کیا ۔ اُنہوں نے گالا کار نیول کی بہت تعریف کی۔اُنہوں نے کہا ،’’میں نے ہمیشہ کشمیری سیبوں سے محبت کی ہے اور آج مجھے حقیقت میں سیب کے درخت دیکھنے کو ملے۔ کشمیری سیب کے ذائقے کی طرح سیب کے پھولوں کی خوشبو بھی لاجواب ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہوا کے جھونکے کے پھولوں کے ساتھ ایک بڑے باغ میں بیٹھنا اور چھو کر ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے۔‘‘اس ماہ طویل فیسٹول سے جموں و کشمیر حکومت باغبانی سیاحت کو بڑے پیمانے پر فروغ دے سکے گی۔ پروگرام کی سب سے بڑی توجہ کاشتکاری شعبے میں اعلیٰ معیار کے پھلوں، دیسی اور تقریباً معدوم ہونے والے پودوں، جدید ترین ٹیکنالوجیوں اور مشینری کی نمائش ہے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے کہا کہ رورل گیپ پُر کرنا جموںوکشمیر یوٹی اِنتظامیہ کو اوّلین ترجیحات میں شامل ہے ۔ روزگار میں اضافہ اور دیہی نوجوانوں کو زراعت اور باغبانی صنعت سے جوڑنے کے لئے ایک مضبوط فریم ورک تیار کیا جارہا ہے ۔ اُنہوں نے کہا،’’اِنتظامیہ زرعی سٹارٹ اَپس میں شامل نوجوانوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔‘‘صوبائی کمشنر نے میلے کا اِفتتاح کرنے کے بعد کہا کہ میلے کا مقصد سیاحوں کو راغب کرنا اور کسانوں کی آمدنی میں اِضافہ کرنا ہے۔ڈائریکٹر جنرل ہارٹی کلچر نے میلے آغاز کے موقعہ پر اَپنی تقریب کے دوران کہا کہ ہارٹی ٹوراِزم جموںوکشمیر میں کسانوں کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لئے شروع کی گئی اَپنی نوعیت کا پہلا اِقدام ہے ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے فیسٹولوں سے باغبانی کی جدید ٹیکنالوجی کو عوام میں پھیلانے میں بھی مدد ملے گی۔










