زوجیلہ ٹنل پروجیکٹ کی پیش رفت کا معائینہ

زوجیلہ ٹنل پروجیکٹ کی پیش رفت کا معائینہ

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور مرکزی وزیر نتن گڈکری کا مشترکہ دورہ

منی مرگ(دراس)// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مرکزی وزیر برائے سڑک ٹرانسپورٹ وہائی ویزنتن گڈکری کے ساتھ روجیلا ٹنل کی تاریخی بریک تھرو تقریب میں شرکت کی۔ ایک بڑی انجینئرنگ سنگِ میل کے تحت سری نگر۔لیہہ قومی شاہراہ پر واقع اس اہم ٹنل کے دونوں سرے آج کامیابی کے ساتھ آپس میں جوڑ دئیے گئے۔یہ بریک تھرو مرکزی وزیر نتن گڈکری نے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے بلاسٹنگ میکانزم کو فعال کر کے مِنی مرگ لداخ کے ایسٹ پورٹل پر انجام دیا۔ اِس موقعہ پر جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور دیگر سینئر حکام بھی موجود تھے۔اس پیش رفت کے ساتھ منصوبہ اپنی تکمیل کے قریب پہنچ گیا ہے جو کشمیر اور لداخ کے درمیان ہر موسم میں رابطے کا سب سے اہم زمینی راستہ ثابت ہوگا۔ تکمیل کے بعد زو جیلا پاس سے سفر کا وقت 1 سے 1.5 گھنٹے سے کم ہو کر تقریباً 15 منٹ رہ جائے گا جس سے سال بھر آمدورفت میں نمایاں بہتری آئے گی۔یہ ٹنل ایک جغرافیائی لحاظ سے اہم بنیادی ڈھانچے کا منصوبہ ہے جس کی لمبائی 13.153 کلومیٹر، چوڑائی 9.5 میٹر اور اونچائی 7.57 میٹر ہے جو سطح سمندر سے تقریباً 11,578 فٹ کی بلندی پر تعمیر کی گئی ہے۔ یہ گھوڑے کی نعل کی شکل کی، سنگل ٹیوب، دو لین سڑک ٹنل ہے جو شدیدموسمی حالات میں بھی مسلسل رابطہ یقینی بنانے کے لئے ڈیزائن کی گئی ہے۔اس پروجیکٹ پر نیشنل ہائی ویز اینڈ اِنفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کام کر رہی ہے۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹنل کو ایک ایسا پروجیکٹ قرار دِیا جو خطے میں روز مرہ کی زِندگی کو بدل دے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ اس سے تعلیم، صحت اور منڈیوں تک رسائی آسان ہوگی اور سیاحت و تجارت کو بھی فروغ ملے گا۔اُنہوں نے مقامی آبادی کو مُبارک باد دیتے ہوئے کہا ،’’ یہ لوگوں کی زندگیوں میں ایسی بہتری لائے گا جس کا شاید ہمیں آج پوری طرح احساس نہ ہو۔‘‘اُنہوںنے اسے طویل عرصے سے زیر اِلتوا ٔمطالبے کی تکمیل قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ باقی ماندہ کام جلد مکمل کئے جائیں تاکہ ٹنل کو مکمل طور پر فعال کیاجا سکے۔عمر عبداللہ نے کرگل کے لئے فضائی رابطے کے حوالے سے کہا کہ اس سمت میں کوششیں کی گئی ہیں مگر مزید تعاون کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے مرکزی وزیر سے درخواست کی کہ کرگل کے لئے باقاعدہ فلائٹ سروس شروع کرنے میں مدد فراہم کی جائے اور اُمید ظاہر کی کہ یہ جلد ہی حقیقت بن جائے گا۔اُنہوں نے دراس کے لوگوں کو مُبارک باد دیتے ہوئے منصوبے میں شامل تمام شراکت داروںکی کوششوں کو سراہا۔اِس موقعہ پرچیف ایگزیکٹیو کونسلر لداخ آٹونومس ہل ڈیولپمنٹ کونسل کرگل ڈاکٹر محمد جعفر آخون،ممبر پارلیمنٹ لداخ حاجی محمد حنیفہ جان اور دیگر سول، فوجی اور پروجیکٹ حکام بھی موجود تھے۔