سال بھر رابطے کی راہ ہموار، 3 گھنٹوں کا سفر 15 منوں میں ہوگا تبدیل
سرینگر// ملک کے اہم ترین بنیادی ڈھانچہ جاتی منصوبوں میں شمار ہونے والی زوجیلا ٹنل کا طویل انتظار کے بعد 9 جون کو تاریخی ’’بریک تھرو‘‘ متوقع ہے، جو کشمیر اور لداخ کے درمیان ہر موسم میں زمینی رابطے کی سمت ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ذرائع کے مطابق مرکزی وزیر برائے سڑک نقل و حمل و شاہراہیں نتن گڈکری اس تاریخی تقریب میں شرکت کر سکتے ہیں۔ بریک تھرو کے دوران ٹنل کے دونوں سروں کو جوڑنے کیلئے آخری دھماکہ کیا جائے گا، جس کے بعد سرنگ کے اندر سے کشمیر اور لداخ کی جانب سے کام کرنے والی انجینئرنگ ٹیمیں آپس میں مل جائیں گی۔یو این ایس کے مطابق13.15 کلومیٹر طویل زوجیلا ٹنل سرینگر۔لیہہ قومی شاہراہ پر واقع زوجیلا درے کے نیچے تعمیر کی جا رہی ہے اور یہ گاندربل کے بالتل علاقے کو دراس کے مینا مرگ سے جوڑے گی۔ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد یہ ہندوستان کی سب سے طویل سڑک سرنگ اور ایشیا کی بلند ترین دو طرفہ ٹریفک والی ٹنل بن جائے گی۔پروجیکٹ حکام کے مطابق بریک تھرو کے بعد سرنگ کے اندر لائننگ، وینٹیلیشن اور دیگر تکمیلی کاموں میں تیزی لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ برفانی تودوں کے خطرات سے دوچار زوجیلا درے کا متبادل فراہم کرے گا، جو ماضی میں ہر سال کئی ماہ تک بند رہتا تھا۔حکام نے بتایا کہ سونہ مرگ کے نزدیک زی مورہ ٹنل پہلے ہی فعال ہو چکی ہے، جبکہ زوجیلا ٹنل کا بریک تھرو لداخ تک ہر موسم میں رابطے کے آخری بڑے مرحلے کی تکمیل ہوگا۔یو این ایس کے مطابق منصوبے پر عملی کام 2020 میں شروع کیا گیا تھا جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے مئی 2018 میں اس کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ یہ منصوبہ میگھا انجینئرنگ اینڈ انفراسٹرکچر لمیٹڈ کے ذریعے تقریباً 6808.69 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جا رہا ہے اور فروری 2028 تک اس کی تکمیل متوقع ہے۔منصوبے میں جدید انجینئرنگ خصوصیات شامل کی گئی ہیں جن میں ہر 750 میٹر کے فاصلے پر لے بائز، تین وینٹیلیشن شافٹس اور نیو آسٹرین ٹنلنگ میتھڈ کے تحت کھدائی شامل ہے، جس سے سرنگ کی حفاظت اور آپریشنل کارکردگی کو یقینی بنایا جائے گا۔ماہرین کے مطابق سرنگ مکمل ہونے کے بعد زوجیلا عبور کرنے کا وقت تین گھنٹوں سے کم ہو کر صرف 15 منٹ رہ جائے گا۔ اس سے نہ صرف دفاعی نقل و حرکت کو تقویت ملے گی بلکہ سیاحت، تجارت اور علاقائی معیشت کو بھی نمایاں فائدہ پہنچے گا۔سونہ مرگ، دراس اور لداخ کے مقامی باشندوں نے منصوبے میں پیش رفت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ سال بھر رابطہ قائم ہونے سے موسم سرما کے دوران طویل تنہائی کا خاتمہ ہوگا اور علاقے میں معاشی سرگرمیوں کو نئی رفتار ملے گی۔










