دنیا کی طویل ترین سنگل ٹیوب ٹنل میںپیش رفت، سفر ڈیڑھ گھنٹے سے صرف 15 منٹ تک محدود، منصوبہ 6 ماہ پہلے اہم مرحلے میں داخل
سرینگر// یو این ایس//ہمالیہ کے بلند و بالا پہاڑوں کو چیرتے ہوئے تعمیر کی جانے والی زوجیلا ٹنل نے آج ایک تاریخی سنگ میل عبور کر لیا۔ کشمیر وادی اور لداخ کو سال بھر جوڑنے والے اس عظیم الشان قومی منصوبے میں منگل کے روز اس وقت ایک اہم کامیابی حاصل ہوئی جب سرنگ کے اندر باقی رہ جانے والے آخری 2.5 میٹر حصے کو کامیاب دھماکے کے ذریعے توڑ دیا گیا اور اس کے ساتھ ہی سرنگ کے دونوں سرے آپس میں مل گئے۔یو این ایس کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف انجینئرنگ کے میدان میں ایک غیر معمولی کامیابی قرار دی جا رہی ہے بلکہ اس سے کئی دہائیوں پر محیط اس خواب کی تعبیر بھی قریب آ گئی ہے جس کے تحت کشمیر اور لداخ کے درمیان ہر موسم میں بلا رکاوٹ زمینی رابطہ قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔لداخ کے منی مارگ علاقے میں منعقدہ تقریب کے دوران مرکزی وزیر برائے سڑک نقل و حمل و شاہراہیں نتن گڈکری نے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے بریک تھرو دھماکے کا آغاز کیا۔ دھماکے کے بعد سرنگ کے اندر موجود انجینئروں اور کارکنوں نے خوشی کا اظہار کیا جبکہ موقع پر موجود اعلیٰ حکام نے اسے ملکی تعمیراتی تاریخ کا ایک یادگار لمحہ قرار دیا۔تقریب میں جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، نیشنل ہائی ویز اینڈ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کے سینئر افسران، فوجی حکام اور تعمیراتی کمپنی کے نمائندے بھی شریک تھے۔حکام کے مطابق زوجیلا ٹنل منصوبہ مقررہ شیڈول سے تقریباً چھ ماہ پہلے اس اہم مرحلے تک پہنچ گیا ہے، جو تعمیراتی ٹیموں اور انجینئروں کی شبانہ روز محنت کا ثبوت ہے۔ منصوبے کے اتھارٹی انجینئر یوسف اسحاق پور رحیم آبادی نے بتایا کہ مجموعی تعمیراتی کام کا تقریباً 85 فیصد حصہ مکمل ہو چکا ہے جبکہ باقی ماندہ کام تیزی سے جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ بریک تھرو کے بعد سرنگ کے اندرونی سول تعمیراتی کاموں، فرش، نکاسی آب، حفاظتی دیواروں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی تکمیل میں مزید سات سے آٹھ ماہ درکار ہوں گے۔ اس کے بعد جدید برقی نظام، وینٹیلیشن، نگرانی، آگ سے تحفظ اور مواصلاتی سہولیات کی تنصیب کا مرحلہ شروع کیا جائے گا۔حکام کا کہنا ہے کہ اگر تعمیراتی سرگرمیاں موجودہ رفتار سے جاری رہیں تو سرنگ کو فروری 2028 تک عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔یو این ایس کے مطابق زوجیلا ٹنل اپنی نوعیت کا ایک منفرد منصوبہ ہے۔ یہ 13.153 کلومیٹر طویل، 9.5 میٹر چوڑی اور 7.57 میٹر بلند سنگل ٹیوب دوطرفہ سڑک سرنگ ہے جو سطح سمندر سے تقریباً 11,578 فٹ کی بلندی پر تعمیر کی جا رہی ہے۔ سرنگ گاندربل ضلع کے بالتل علاقے کو لداخ کے دراس سیکٹر کے منی مارگ سے جوڑے گی۔اس کے علاوہ منصوبے میں تقریباً 18 کلومیٹر طویل رابطہ سڑک، متعدد پل اور دیگر معاون تعمیرات بھی شامل ہیں۔ مجموعی طور پر یہ پورا منصوبہ 31 کلومیٹر پر محیط ہے اور اس پر اربوں روپے کی لاگت آ رہی ہے۔ماہرین کے مطابق زوجیلا ٹنل صرف ایک تعمیراتی منصوبہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، اقتصادی ترقی اور علاقائی رابطوں کے حوالے سے ایک اسٹریٹجک انقلاب کی حیثیت رکھتی ہے۔ سرینگر-لیہہ قومی شاہراہ پر واقع زوجیلا درہ ہر سال شدید برفباری کے باعث کئی ماہ تک بند رہتا ہے، جس سے لداخ کا زمینی رابطہ متاثر ہوتا ہے اور لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔سردیوں کے دوران برفانی طوفان اور برف کے تودے اس شاہراہ کو انتہائی خطرناک بنا دیتے ہیں۔ کئی مرتبہ مسافر اور مال بردار گاڑیاں دنوں تک پھنس جاتی ہیں جبکہ لداخ کو ضروری اشیائے خورد و نوش، ایندھن اور دیگر سامان کی فراہمی بھی متاثر ہوتی ہے۔زوجیلا ٹنل مکمل ہونے کے بعد یہ تمام مشکلات بڑی حد تک ختم ہو جائیں گی۔ سرنگ سال بھر ٹریفک کے لیے کھلی رہے گی اور برفباری یا خراب موسمی حالات کے باوجود سفر جاری رکھا جا سکے گا۔اس منصوبے کا سب سے بڑا فائدہ سفر کے دورانیے میں نمایاں کمی کی صورت میں سامنے آئے گا۔ موجودہ صورتحال میں زوجیلا درہ عبور کرنے میں ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ لگ جاتا ہے جبکہ سرنگ کے فعال ہونے کے بعد یہی سفر محض 15 منٹ میں مکمل ہو سکے گا۔سیاحت کے شعبے سے وابستہ افراد کا ماننا ہے کہ اس منصوبے سے کشمیر اور لداخ دونوں خطوں میں سیاحتی سرگرمیوں کو زبردست فروغ ملے گا۔ سال بھر رسائی ممکن ہونے سے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا جبکہ مقامی لوگوں کے لیے روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔یو این ایس کے مطابق دوسری جانب دفاعی ماہرین اس منصوبے کو قومی سلامتی کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیتے ہیں۔ لداخ کی سرحدی اہمیت کے پیش نظر فوجی دستوں، ساز و سامان اور ضروری رسد کی نقل و حرکت ہر موسم میں ممکن ہو سکے گی، جس سے سرحدی علاقوں میں دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوطی ملے گی۔زوجیلا ٹنل کی تعمیر کے دوران انجینئروں کو انتہائی دشوار جغرافیائی حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ نازک پہاڑی ساخت، شدید سرد موسم، برفانی تودوں کا خطرہ اور بلند ترین مقامات پر کام کرنا ایک بڑا چیلنج تھا۔ تعمیراتی کمپنی میگھا انجینئرنگ اینڈ انفراسٹرکچر لمیٹڈ نے جدید نیو آسٹرین ٹنلنگ میتھڈ کے ذریعے ان مشکلات پر قابو پایا اور ہمالیہ کے پہاڑوں کے اندر سرنگ کا راستہ بنانے میں کامیابی حاصل کی۔آج حاصل ہونے والا بریک تھرو صرف ایک تکنیکی کامیابی نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کی امیدوں، برسوں کے انتظار اور ملک کے ایک بڑے انفراسٹرکچر وڑن کی تکمیل کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ سرنگ کی تکمیل کے بعد کشمیر اور لداخ کے درمیان فاصلے کم ہوں گے، اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور یہ خطہ ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہو سکے گا۔










