سری نگر// 8اکتوبر 2005کو آرپارکشمیرمیں آئے تباہ کن زلزلے میں مظرآباد ،اوڑی اورٹنگڈار وغیرہ میں ہزاروں انسانی جانیں تلف ہوئیں اورلاکھوں کی تعدادمیں عمارتیں زمین بوس ہوگئیں جبکہ لاکھوں لوگ بے گھرہوگئے ۔اُسوقت کی مرکزی سرکارکی جانب سے کی گئی ہنگامی امداداور غیرسرکاری تنظیموںکی جانب سے اُٹھائے گئے اقدامات کے نتیجے میں بے گھر ہوئے کنبوںکی بازآبادکاری ممکن ہوپائی ۔بالائی ناہموار علاقے اور بکھری ہوئی بستیوں کانام ونشان تک مٹ گیا۔جے کے این ایس کے مطابق 2005کے اس تباہ کن زلزلے کے بعد بارہا یہ بات سامنے آئی کہ کشمیر اورجموں وکشمیرکے دوسرے کئی علاقے زلزلوں کے اعتبار سے خطرات زون میں آتے ہیں ،اور کوئی بھی بڑا زلزلہ یہاں پھر تباہ کن ثابت ہوسکتاہے ۔ماہرین ارضیات کاکہناہے کہ سری نگربڑی فالٹ لائن پر ہونے کی وجہ سے خطرناک زون 5میں شامل ہے ۔2015 میں جموں وکشمیرکے گرمائی دالحکومت سری نگر کو بڑی فالٹ لائن ہونے کی وجہ سے سب سے خطرناک زون 5میں شامل کر لیا گیا۔نیپال میں اپریل میں آئے تباہ کن زلزلے سے سبق لیتے ہوئے بھارتی پارلیمانی پینل نے ہندوستان میں زلزلے کے خطرہ سے سب سے زیادہ دو4 علاقوں میں باریک بینی سے تجزیہ کرتے ہوئے اس بات کا پتہ لگانے کی ہدایت جاری کی ہے کہ امکانی زلزلے کی صورت میں ان علاقوں میں کس قسم کے نقصانات کا احتمال ہوسکتا ہے تاکہ پیشگی تیاری کی جاسکے۔ اس اقدام سے وادی اور خصوصا سرینگر شہر اور دیگر ہمالیائی خطوں میں کسی بھی امکانی زلزلہ سے نپٹنے میں کافی مدد ملے گی۔ پارلیمانی کمیٹی نے اپنی سفارشات میں بغیر کسی تعطل و تغافل کے ہندوستان کے تمام ایسے شہروں میں ، جو زلزلوں کے اعتبارسے سب سے خطرناک تصور کئے جانے والے زونIIIٰ،IVاورVمیں پڑتے ہیں ، میںمائیکروزونیشنMicrozonatioکرنے کی ہدایت دی ہے۔اس تکنیک کے تحت ایک علاقہ میں وہاں کے زمینی و ماحولیاتی عوامل کو دیکھتے ہوئے زلزلہ سے پڑنے والے ا ثرات و نقصان کا پیشگی اندازہ لگایا جاسکے تاکہ کسی بھی امکانی صورت حال کیلئے پیشگی تیاری ہوسکے۔ واضح رہے کہ وادی کشمیر کو ماہرین نے ہمالیائی خطہ میں ہونے کی وجہ سے زلزلوں کے خطرہ سے دوچار قرار دیاہے جبکہ شہر سرینگر میں بڑی فالٹ لائن ہونے کی وجہ سے ماہرین پہلے ہی اس شہر کو سب سے خطرناک زون 5میں شمار کرتے ہیں ایسے میں پارلیمانی پینل کی اس ہدایت پر اگر عمل ہوتا ہے تو عین ممکن ہے کہ زلزلوں کی وجہ سے پیش آنے والی صورتحال سے نپٹنے کیلئے پیشگی تیاریاں کی جاسکیں۔کشمیرکے نامور ماہرارضیات ڈاکٹر شکیل احمدرمشو نے سال2005کے بعد سے دیگر ماہرین کیساتھ ملکر کئی مطالعاتی رپورٹ مرتب کئے ۔سال2022میں مرتب کردہ ایسی ہی ایک مطالعہ میں شہر سری نگر میں عمارتوں کے زلزلے کے خطرے کی تحقیقات کی گئی ۔مذکورہ رپورٹ میں بتایاگیاکہ سری نگر شہر، تقریباً 246 کلومیٹر 6 کے رقبے پر محیط ہے اور 69 میونسپل وارڈز میں منقسم ہے، تیکنیکی طور پر فعال اور گنجان آبادی والے پہاڑی ماحولیاتی نظام میں واقع ہے۔ شہر کی بے ترتیب ترقی اور زلزلے کے زیادہ خطرے کے پیش نظر، یہ ضروری ہے کہ تعمیر شدہ ماحول کی کمزوری کا اندازہ لگایا جائے تاکہ مؤثر زلزلے کے خطرے کو کم کرنے کی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے پالیسی سازی کو مطلع کیا جا سکے۔ تجزیاتی درجہ بندی کے عمل (AHP) اور مثالی حل (TOPSIS) کے نقطہ نظر سے مماثلت کے ذریعہ ترتیب کی ترجیح کے لئے تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے GIS میں مختلف پیرامیٹرز کو یکجا کرتے ہوئے، عمارتوں کے وارڈ وار خطرے سے پتہ چلتا ہے کہ کل 17 کلومیٹر 2 رقبہ (23 وارڈز) میں بہت زیادہ سے زیادہ خطرہ ہے؛ اعتدال پسند کمزوری شہر کے علاقے کے69کلومیٹر2 کو متاثر کرتی ہے۔ مطالعاتی رپورٹ میں خبردارکیاگیاکہ مجموعی طور پر، مرکز کا شہر زلزلے سے ہونے والے نقصانات کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ہے، جس کی وجہ جھٹکے کے زیادہ خطرے، عمارت کی کثافت، اور تنگ سڑکیں ہیں، جن میں کم یا کوئی کھلی جگہ نہیں ہے۔ دوسری طرف، جدید اَپ ٹاؤن شہر، نسبتاً چوڑی سڑکوں اور عمارت کی کم کثافت کی وجہ سے زلزلے کا کم خطرہ ہے۔ اس تحقیق میں حاصل کردہ علم زلزلے کے خطرے کو کم کرنے کے اقدامات کو تیار کرنے کے لئے ایکشن پلان سے آگاہ کرے گا، جس میں بلڈنگ کوڈز پر سختی سے عمل درآمد، کمزور عمارتوں کی مرمت اور تباہی سے متعلق اس کے شہریوں کے درمیان شعور پیدا کرنا شامل ہے۔کئی مرتبہ ماہرین نے حکومتوں سے کہاکہ سری نگرسمیت کشمیر میں سرکاری اور نجی عمارات کی تعمیر کیلئے جدید طریقہ کاراورٹیکنالوجی اپنائی جائے تاکہ ایسی عمارات کسی بھی زلزلے کے جھٹکے کوبرداشت کرسکیں اورکم سے کم جانی نقصان ہو لیکن آج تک ماہرین کی مطالعاتی رپورٹوں اور ماہرین کے مشورہ کوکسی بھی سطح پرخاطرمیں نہیں لایاگیا۔










