زبانیں صرف اِظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ ہماری تاریخ ، شناخت اور ثقافت کی محافظ ہیں۔ سکینہ اِیتو

زبانیں صرف اِظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ ہماری تاریخ ، شناخت اور ثقافت کی محافظ ہیں۔ سکینہ اِیتو

جموںیونیورسٹی میں’’ اُردو کا علاقائی زبانوں کے ساتھ تعلق‘‘ کے موضوع پر کلیدی خطاب

جموں// وزیربرائے تعلیم، سماجی بہبود، صحت و طبی تعلیم محکمہ جات سکینہ اِیتو نے کہا کہ زبانیں صرف خیالات کا اِظہار کا ذریعہ نہیں ہوتیں بلکہ یہ ہماری تاریخ، شناخت اور ثقافت کی محافظ بھی ہوتی ہیں۔اُنہوںنے اِن باتوں کا اِظہار آج یہاںجموں یونیورسٹی میں ’ اُردو کا علاقائی زبانوں کے ساتھ تعلق ‘ کے موضوع پر منعقدہ ایک روزہ سمینار کے دوران کلیدی خطبہ دیتے ہوئے کیا۔سمینارکا اِنعقاد جموں یونیورسٹی کے شعبہ اُردو نے نیشنل کونسل فار پروموشن آف اُردو لنگویج (این سی پی یو ایل) کے اِشتراک سے کیا تھا۔وزیرموصوفہ نے اَپنے خطاب میں کہا کہ یہ سمینار محض ایک رسمی تقریب نہیں ہے بلکہ ہماری شناخت کا عکاس ہے کیوں کہ زبانیں صرف خیالات کے اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ ہماری تاریخ، شناخت اور ثقافت کی محافظ ہیں۔اُنہوں نے کہا،’’اُردو ایک ایسی زبان ہے جو صدیوں کے دوران ارتقا پذیر ہوئی ہے اور مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے اثرات کو اَپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ لکھنؤ اور دہلی کو اُردو کے آبائی مقامات سمجھا جاتا ہے لیکن جموں و کشمیر نے بھی اس منفرد زبان کو یکساں طور پر پروان چڑھایا ہے۔‘‘وزیر تعلیم نے اِس بات پر زور دیا کہ اُردو کا مقامی زبانوں جیسے کشمیری، ڈوگری، گوجری، پہاڑی، بھدرواہی اور کشتواری کے ساتھ تعلق محض ہمسائیگی تک محدود نہیں بلکہ ایک گہرا لسانی رشتہ ہے۔اُنہوں نے کہا،’’اُردو نے مقامی زبانوں سے الفاظ، محاورے اور لہجے کو اَپنایا اور بدلے میں انہیں ایک وسیع پلیٹ فارم دیا۔ جموں و کشمیر وہ سرزمین ہے جہاں اُردو کو نہ صرف سرکاری سرپرستی حاصل رہی بلکہ صوفیوں، رشیوں، سنسکرت اور فارسی کے سکالروںنے اسے لوگوں تک پہنچانے میں کلیدی کردار اَدا کیا۔‘‘سکینہ اِیتو نے مزید کہا کہ اُردو یہاں مختلف کمیونٹیوں کو جوڑنے کا کام کرتی ہے اور ایک دوسرے کے دلوں تک رسائی کا ذریعہ بنتی ہے۔اُنہوں نے کہا،’’اُردو زبان ایک ریشمی دھاگہ ہے جو ہماری رنگین ثقافت کو جوڑتی ہے۔‘‘اُنہوں نے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری، ڈوگری، گوجری، پہاڑی اور دیگر علاقائی زبانوں کے فروغ اور تحفظ کے لئے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اُنہوں نے جامع پالیسیوں کی اہمیت پر زور دیا جو کثیر لسانی تعلیم کو فروغ دیں اور لسانی شناختوں کا تحفظ کریں۔وزیر موصوفہ نے این سی پی یو ایل اور جموں یونیورسٹی کے شعبہ اُردو کو یقین دِلایا کہ حکومت اُردو زبان کے فروغ کے ساتھ ساتھ علاقائی زبانوں کی ترقی کے لئے بھی پُرعزم ہے۔اُنہوں نے مقامی زبانوں کی دستاویزی شکل دینے اور احیاء کے لئے علمی تحقیق اور عوامی شمولیت کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ اُنہوں نے سکالروں، اَساتذہ اور طلبأ سے اپیل کی کہ وہ لسانی تنوع کو فروغ دینے والی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔اِس موقعہ پر وزیرتعلیم سکینہ اِیتو نے ایک اُردو میگزین کا اجرأبھی کیا۔وائس چانسلر جموں یونیورسٹی پروفیسر امیش رائے نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اُردو ایک متنوع زبان ہے جو ملک کے مختلف حصوں میں بولی جاتی ہے اور زبانیں کمیونٹیوں کو جوڑنے کا ایک مضبوط ذریعہ ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ زبانیں مختلف ثقافتوں اور روایات کو آپس میں جوڑتی ہیں اور قومی یکجہتی کے لئے زبانوں کو فروغ دینا ضروری ہے۔ڈائریکٹر این سی پی یو ایل ڈاکٹر شمس اِقبال نے کہا کہ جموں و کشمیر نہ صرف اَپنی خوبصورت وادیوں بلکہ اپنی ثقافت اور روایات کے لئے بھی مشہور ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ریاست کے مختلف حصوں میں بولی جانے والی متعدد زبانیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ یہاں زبانوں کے درمیان مضبوط رشتہ موجود ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 میں بھی علاقائی زبانوں کی اہمیت کو اُجاگر کیا گیا ہے۔ڈاکٹر شمس نے سمینار کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ سمینار اُردو کے علاقائی زبانوں پر اثرات پر غور و خوض کے لئے ایک بہترین پلیٹ فارم ہے۔شعبہ اُردوجموں یونیوسٹی کے سربراہ پروفیسر شہاب عنایت ملک نے اپنے اِستقبالیہ خطاب میں وزیر تعلیم سکینہ ایتو کی اعلیٰ تعلیمی شعبے میں نئی جہتیں متعارف کرنے اور بہتری لانے کی کوششوں کو سراہا۔ اُنہوں نے کہا کہ وزیر تعلیم نے قانون ساز اسمبلی کے حالیہ بجٹ سیشن میں پرائیویٹ یونیورسٹی بِل کی منظوری میں اہم کردار ادا کر کے شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا ہے۔اُنہوں نے اس ایک روزہ سمینار کے بنیادی نکات اور اُردو زبان کی اہمیت پر بھی تفصیل سے بات کی۔اُنہوں نے کہا کہ اردو ہماری تہذیب اور ثقافت کو جوڑنے کا کام کر رہی ہے۔اِس موقعہ پر نامور ادیب اور شاعروفیسر قدوس جاوید اور ڈاکٹر خالد حسین نے بھی خطاب کیا اور ملک کے کثیر لسانی، کثیر ثقافتی اور کثیر مذہبی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔