وزیر اعظم ریاسی-سنگلدان ٹریک کا افتتاح کریں گے۔ مرکزی وزیر ریلوے
سرینگر//ریاسی بارہمولہ کے مابین رواں برس کے آخر تک ریل شروع ہونے کا عندیہ دیتے ہوئے مرکزی وزیر ریلوے نے کہا ہے کہ ریاسی سنگلدان سٹیشن کا افتتاح وزیر اعظم نریندر مودی کے ہاتھوں ہوگا ۔ انہوںنے بتایا کہ ریل منصوبے پر آخری مرحلے پر کام چل رہا ہے اور جلد ہی یہ پروجیکٹ قوم کے نام وقف کیا جائے گا۔ وائس آف انڈیا کے مطابق ریلوے کی وزارت نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ٹریک کے ریاسی-سنگلدان سیکشن کے افتتاح کے لیے وقت مانگا ہے جو ریاسی سے بارہمولہ کو ٹرین کے ذریعے جوڑے گا جبکہ پروجیکٹ کا بقیہ حصہ (کٹرا-ریاسی) سال کے آخر تک مکمل ہونے کی امید ہے۔ ریلوے بجٹ پر نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر ریلوے اشونی ویشنو نے کہا کہ ریاسی سے سنگلدان ریلوے ٹریک مکمل ہو چکا ہے۔ ٹرین پہلے ہی سنگلدان سے بارہمولہ کے درمیان چل رہی ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہم نے وزیر اعظم کو خط لکھا ہے جس میں ادھم پور-بارہمولہ پروجیکٹ کے ریاسی-سنگلدان سیکشن کے افتتاح کے لیے ان سے وقت مانگا گیا ہے۔ٹریک کے ریاسی-سنگلدان سیکشن کی تکمیل سے ٹرین براہ راست ریاسی سے بارہمولہ تک لے جائے گی۔ ٹرین خدمات پہلے ہی ملک کے مختلف حصوں سے شری ماتا ویشنو دیوی جی کے مزار کے بیس کیمپ کٹرا تک چل رہی ہیں۔وزیر ریلوے نے کہا کہ کٹرا ریاسی سیکشن (تقریباً 17 کلومیٹر) پر باقی کام سال کے آخر تک مکمل ہونے کی امید ہے۔کٹرا ریاسی سیکشن کا آغاز اس سال کے آخر تک وادی کشمیر کو ٹرین کے ذریعے ملک کے باقی حصوں سے جوڑ دے گا۔قبل ازیں اطلاعات تھیں کہ ریاسی سے بارہمولہ کے درمیان ٹرین خدمات 15 اگست کے آس پاس شروع ہوسکتی ہیں۔سنگلدان اور ریاسی کے درمیان ٹرائل رن متعدد بار کیے گئے اور وہ کامیاب رہے۔ کمشنر ریلوے سیفٹی نے ٹریک پر سیفٹی ٹرائل بھی کیا ہے۔46 کلومیٹر طویل الیکٹریفائیڈ روٹ کے متوقع آغاز کے ساتھ، ریلوے 272 کلومیٹر یو ایس بی آر ایل پروجیکٹ میں سے کل 255 کلومیٹر کا احاطہ کرے گا اور کٹرا اور ریاسی کے درمیان صرف 17 کلومیٹر کا راستہ مکمل ہونا ہے۔وزیر ریلوے نے کہا کہ جموں و کشمیر کو 2024-25 کے سالانہ اوسط بجٹ میں 3694 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ 2009-14 کے دوران صرف 1044 کروڑ روپے تھے۔ویشنو نے اعلان کیا کہ جموں و کشمیر میں چار نئے ریلوے اسٹیشنوں کو امرت اسٹیشن کے طور پر تیار کیا جائے گا۔ان میں جموں توی، شری ماتا ویشنو دیوی کٹرا، ادھم پور اور بڈگام شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2014-24 کے دوران 87 نئے ٹریکس شروع کیے گئے ہیں اور 344 کلومیٹر ٹریک کو برقی کیا گیا ہے جبکہ 2009-14 کے دوران صفر کلومیٹر تھا۔وشنو نے کہا، ’’جموں و کشمیر میں اب 100 فیصد برقی ٹریک ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 2014-24 کے دوران چھ ریلوے فلائی اوور اور انڈر برجز بھی بنائے گئے۔جموں و کشمیر میں نئے پروجیکٹوں کے لیے، وزیر ریلوے نے کہا، تفصیلی پروجیکٹ رپورٹس (DPRs) تیار کی جا رہی ہیں۔ ان میں بارہمولہ سے اْڑی تک ریلوے لائن کی توسیع شامل ہے، جو پاکستان کے ساتھ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب آتی ہے۔










