روایتی جنگی نظام کی اہمیت مستقبل میں بھی برقرار رہے گی

جنگی حالات میں سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے، دفاعی خود انحصاری ناگزیر// وزیر دفاع راجناتھ سنگھ

سرینگر// مرکزی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ روایتی جنگی نظام، دفاعی سازوسامان اور عسکری صلاحیتیں آج بھی اتنی ہی اہم اور مؤثر ہیں جتنی 1947 میں تھیں، اور آنے والے برسوں میں بھی ان کی اہمیت کم نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور سائبر جنگ کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باوجود روایتی دفاعی طاقت کسی بھی ملک کی سلامتی کی بنیاد بنی رہے گی۔یو این ایس کے مطابق راج ناتھ سنگھ جمعہ کو مہاراشٹر کے شہر ناگپور کے امباجھری علاقے میں سرکاری دفاعی ادارے ینترا انڈیا لمیٹڈمیں 10 ہزار ٹن صلاحیت کے ایلومینیم ایکسٹروڑن پریس منصوبے کے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس منصوبے کو دفاعی شعبے میں خود انحصاری کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے اہم دفاعی ایلومینیم پرزہ جات کی مقامی سطح پر تیاری ممکن ہوگی اور درآمدات پر انحصار میں نمایاں کمی آئے گی۔وزیر دفاع نے کہا کہ دنیا کے مختلف حصوں میں جاری تنازعات اور جنگوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جنگی حالات میں بین الاقوامی سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے۔ ایسے وقت میں وہی ممالک بہتر انداز میں اپنے مفادات کا تحفظ کر سکتے ہیں جو اپنی بنیادی ضروریات اور دفاعی تقاضوں کو مقامی سطح پر پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی حقیقی طاقت اس کی خود کفالت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ اگر ایک ملک اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے دوسروں پر انحصار کرتا رہے تو ہنگامی حالات میں اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے حکومت دفاعی پیداوار میں خود انحصاری کو فروغ دینے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ جدید دور میں ڈرونز، سائبر ہتھیاروں اور مصنوعی ذہانت پر مبنی جنگی نظام روایتی عسکری صلاحیتوں کی جگہ لے لیں گے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ روایتی جنگی نظام اور عسکری وسائل آج بھی اتنے ہی ضروری ہیں جتنے آزادی کے وقت تھے اور 2047 میں بھی ان کی افادیت برقرار رہے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ اسی وجہ سے دفاعی صنعتی ڈھانچے اور مقامی دفاعی پیداوار کو مضبوط بنانا ہر ملک کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ مضبوط دفاعی صنعت نہ صرف قومی سلامتی کو یقینی بناتی ہے بلکہ روزگار، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اقتصادی استحکام میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔یو این ایس کے مطابق وزیر دفاع نے اس موقع پر دفاعی شعبے میں بھارت کی حالیہ کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مالی سال 2025-26کے دوران ملک کی دفاعی پیداوار ایک لاکھ 78 ہزار کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی، جبکہ 2014 میں یہ صرف 46 ہزار کروڑ روپے تھی۔ ان کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران دفاعی پیداوار میں ہونے والا یہ غیر معمولی اضافہ حکومت کی پالیسیوں اور مقامی صنعتوں کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔انہوں نے بتایا کہ دفاعی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ 2014 میں بھارت کی دفاعی برآمدات محض ایک ہزار کروڑ روپے تھیں، جو اب بڑھ کر 40 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہیں۔ ان کے مطابق بھارتی دفاعی مصنوعات اب دنیا کے متعدد ممالک کو برآمد کی جا رہی ہیں، جس سے عالمی دفاعی منڈی میں بھارت کی حیثیت مزید مستحکم ہوئی ہے۔راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ حکومت کا ہدف بھارت کو دنیا کے صفِ اول کے دفاعی پیداواری مراکز میں شامل کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے جدید ٹیکنالوجی، تحقیق و ترقی، مقامی صنعتوں کی حوصلہ افزائی اور نجی شعبے کی شمولیت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ نئے ایلومینیم ایکسٹروڑن پریس منصوبے جیسے اقدامات نہ صرف دفاعی خود کفالت کو مضبوط کریں گے بلکہ بھارت کو عالمی دفاعی مینوفیکچرنگ کے شعبے میں ایک اہم طاقت کے طور پر ابھارنے میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔